ٹرمپ کا ایران اور اسرائیل فوری حملے روکنے کا مطالبہ، ایران کا کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان

ایران اور اسرائیل کا فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کردیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرمپ کا ایران اور اسرائیل فوری حملے روکنے کا مطالبہ، ایران کا کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان

تہران: ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے اسرائیل کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو فی الحال معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں عسکری کارروائیاں کی گئی تھیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد لبنانی عوام کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کا مؤثر جواب دینا تھا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران کا ردعمل اسرائیل اور اس کے حامیوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا اور اس سے انہیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

ٹرمپ ایران اسرائیل تنازع پر بیان دیتے ہوئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے سے امریکی لاتعلقی کا اشارہ دیا۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ اگر اسرائیل نے مستقبل میں دوبارہ اشتعال انگیزی یا فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو ایران سخت اور فیصلہ کن جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔

ایران کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل دونوں سے فوری طور پر جنگ بندی اور حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں ممالک فوری جنگ بندی چاہتے ہیں اور امن کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں، تاہم بعض عناصر اس عمل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک موجودہ ناکہ بندی برقرار رہے گی اور اس پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے لیے پیش رفت تیزی سے ہونی چاہیے۔

دوسری جانب چین نے بھی مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھیں اور کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کریں۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان متعدد حملوں اور جوابی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے شمالی اسرائیل کے اہم فضائی اڈوں پر میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، جبکہ اسرائیل نے لبنان اور دیگر علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مستقبل کی صورتحال کا انحصار دونوں فریقوں کے عملی اقدامات اور جاری سفارتی کوششوں پر ہوگا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: ایران نے فوجی کارروائیاں کیوں روکیں؟

جواب: ایرانی فوج کے مطابق کارروائیاں جنوبی لبنان اور بیروت پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی تھیں اور فی الحال انہیں روک دیا گیا ہے۔

سوال: کیا ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہوگئی ہے؟

جواب: باضابطہ مکمل جنگ بندی کا اعلان نہیں ہوا، تاہم ایران نے کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے اور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

سوال: ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا بیان دیا؟

جواب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل دونوں فوری جنگ بندی چاہتے ہیں اور امن مذاکرات جاری ہیں۔

سوال: ایران نے اسرائیل کو کیا انتباہ دیا؟

جواب: ایران نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی نئی اسرائیلی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

سوال: خطے کی صورتحال پر چین کا کیا مؤقف ہے؟

جواب: چین نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے جنگ بندی برقرار رکھنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]