کوئٹہ میں آٹے کی قیمت میں پھر اضافہ، فی کلو 120 روپے ہو گیا

کوئٹہ میں آٹے کی بڑھتی قیمتیں، دکان پر آٹا فروخت ہوتا ہوا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کوئٹہ میں آٹا مزید مہنگا، 50 کلو تھیلا 500 روپے بڑھ گیا

کوئٹہ میں آٹے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی بنیادی غذائی شے آٹا عام آدمی کی پہنچ سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے، اور مہنگائی کی یہ نئی لہر غریب اور متوسط طبقے کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ آٹا ڈیلرز کے مطابق کوئٹہ شہر میں آٹے کی فی کلو قیمت 110 روپے سے بڑھ کر 120 روپے تک جا پہنچی ہے، جبکہ 50 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 500 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں قائم آٹا فروشوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ اچانک نہیں بلکہ فلور ملز مالکان کی جانب سے کیے گئے نرخوں میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ ڈیلرز کے مطابق فلور ملز نے گندم کی قیمت، پیداواری لاگت، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کو جواز بنا کر آٹے کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے ان کی کمر توڑ رکھی ہے، اور اب آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں اضافہ ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا رہا ہے۔ گھریلو خواتین کا کہنا ہے کہ محدود آمدن میں بجٹ بنانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ ہر ہفتے کسی نہ کسی ضروری چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ ایک شہری نے بتایا کہ تنخواہیں وہی ہیں لیکن اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

ماہرینِ معاشیات کے مطابق آٹے کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ گندم کی قیمتوں میں عدم استحکام، ذخیرہ اندوزی، ناقص حکومتی نگرانی اور پالیسیوں کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بروقت اقدامات کرے، فلور ملز اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائے اور گندم کی سپلائی چین کو بہتر بنائے تو قیمتوں میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب آٹا ڈیلرز کا موقف ہے کہ وہ خود بھی اس مہنگائی سے متاثر ہیں اور من مانی قیمتیں مقرر نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب فلور ملز مہنگا آٹا فراہم کریں گی تو وہ اسے سستا فروخت نہیں کر سکتے۔ ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فلور ملز کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور گندم کی مناسب مقدار میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے۔

کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں بلکہ ہوٹلوں، تندوروں اور بیکریوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ تندور مالکان کا کہنا ہے کہ آٹا مہنگا ہونے کے باعث نان اور روٹی کی قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا، جس سے عوام میں بے چینی مزید بڑھ جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں نان کی قیمت میں اضافے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس نے غریب طبقے کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ آٹے جیسی بنیادی غذائی اشیاء پر خصوصی توجہ دے اور سبسڈی کے نظام کو مؤثر بنائے۔ اگر یوٹیلیٹی اسٹورز پر معیاری آٹا سستے داموں فراہم کیا جائے تو عام شہری کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اکثر یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹا دستیاب نہیں ہوتا یا معیار تسلی بخش نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے انہیں مہنگے داموں بازار سے خریداری کرنا پڑتی ہے۔

سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں عوام کو مزید دباؤ میں ڈالنا ناانصافی ہے۔ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو عوامی سطح پر احتجاج کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی کی ایک اور کڑی ہے، جس نے عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، متعلقہ محکمے اور مارکیٹ ریگولیٹری ادارے مل کر مؤثر اقدامات کریں تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ بصورت دیگر مہنگائی کا یہ سلسلہ نہ صرف معاشی مسائل کو جنم دے گا بلکہ سماجی بے چینی میں بھی اضافہ کرے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]