سوات میں زلزلہ، مینگورہ اور گردونواح میں شدید جھٹکے محسوس

سوات میں زلزلہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مینگورہ سمیت سوات، دیر، چترال اور باجوڑ میں زلزلہ، ریکٹر اسکیل پر شدت 4.7 ریکارڈ

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں واقع مینگورہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلے کے اچانک جھٹکوں نے شہریوں کو شدید خوفزدہ کر دیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دفاتر اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے باعث اگرچہ کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہریوں میں شدید بے چینی دیکھی گئی۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.7 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلے کی گہرائی زمین کے اندر 8 کلو میٹر بتائی گئی ہے، جو نسبتاً کم گہرائی ہونے کے باعث جھٹکوں کو زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیے جانے کا سبب بنی۔ زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز پاک افغان سرحدی علاقہ تھا، جہاں ارضیاتی فالٹ لائنز متحرک ہونے کے باعث اس قسم کے زلزلے اکثر محسوس کیے جاتے ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے مینگورہ شہر کے علاوہ سوات کے دیگر علاقوں میں بھی واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ شہریوں کے مطابق جھٹکے چند سیکنڈز تک جاری رہے، تاہم ان چند لمحوں نے خوف کی فضا قائم کر دی۔ بعض علاقوں میں گھروں کی دیواریں لرزنے لگیں جبکہ برتن اور دیگر اشیاء ہلنے لگیں، جس سے لوگوں کو شدید خطرے کا احساس ہوا۔

زلزلے کے اثرات صرف سوات تک محدود نہیں رہے بلکہ دیر لوئر، چترال، باجوڑ، مالاکنڈ اور ان کے گرد و نواح میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہریوں نے گھروں سے باہر نکل کر کھلے مقامات پر پناہ لی اور کچھ دیر تک خوف کے عالم میں باہر ہی موجود رہے۔ بعض مقامات پر مساجد سے اعلانات بھی کیے گئے تاکہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت دی جا سکے۔

زلزلے کے فوراً بعد ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور مقامی پولیس الرٹ ہو گئی۔ ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم حکام کی جانب سے مختلف علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ماہرینِ ارضیات کے مطابق خیبر پختونخوا اور خصوصاً پاک افغان سرحدی علاقے زلزلہ خیز خطے میں شمار ہوتے ہیں، جہاں زمینی پلیٹوں کی حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ کم گہرائی پر آنے والے زلزلے اگرچہ شدت میں درمیانے درجے کے ہوتے ہیں، تاہم ان کے جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کیے جاتے ہیں، جس سے خوف و ہراس پیدا ہو جاتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ زلزلے کے دوران انہیں ماضی میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کی یاد تازہ ہو گئی، جس کے باعث وہ شدید خوف کا شکار ہو گئے۔ خاص طور پر خواتین، بچے اور بزرگ افراد زیادہ پریشان نظر آئے۔ بعض علاقوں میں لوگ کافی دیر تک اپنے گھروں میں واپس جانے سے گریز کرتے رہے اور ممکنہ آفٹر شاکس کے خدشے کے پیش نظر کھلے مقامات پر ہی موجود رہے۔

ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات پر یقین کریں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے الرٹ ہیں۔ شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زلزلے کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، مضبوط میز یا دیوار کے قریب رہیں اور بجلی و گیس کے کنکشنز کا خاص خیال رکھیں۔

ماہرین کے مطابق زلزلے کے بعد آفٹر شاکس آنا ایک قدرتی عمل ہے، تاہم ہر جھٹکا خطرناک نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود عوام کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری خطرات سے بچنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور ہسپتالوں میں بھی حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مجموعی طور پر سوات، مینگورہ اور گرد و نواح میں آنے والے اس زلزلے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ پاکستان زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے اور کسی بھی وقت قدرتی آفات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ عمارتوں کی تعمیر میں زلزلہ مزاحم اصولوں کو اپنایا جائے اور عوام میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]