عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا، فی تولہ 5 لاکھ 36 ہزار سے تجاوز

پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ 5 لاکھ 36 ہزار 562 روپے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی مارکیٹ میں سونا 30 ڈالر مہنگا، مقامی سطح پر نئی بلند ترین قیمت

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں، تاجروں اور عام خریداروں کو حیران کر دیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونا 30 ڈالر مہنگا ہو کر 5138 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا ہے، جب کہ پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں بھی اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوئے ہیں اور فی تولہ سونا 3 ہزار روپے اضافے کے بعد 5 لاکھ 36 ہزار 562 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا ہے۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 572 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 60 ہزار 15 روپے ہو گئی ہے، جب کہ چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور فی تولہ چاندی 146 روپے مہنگی ہو کر 9 ہزار 94 روپے کی ہو گئی ہے۔

عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، افراطِ زر کا دباؤ، مختلف ممالک کی مانیٹری پالیسیوں میں تبدیلیاں اور جغرافیائی کشیدگیاں شامل ہیں۔ جب بھی عالمی معیشت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تو سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں معمولی سی بے چینی بھی سونے کی قیمتوں کو اوپر لے جاتی ہے۔ حالیہ اضافہ بھی اسی رجحان کا عکاس ہے، جہاں سرمایہ کاروں نے سونے کو ایک محفوظ اثاثے کے طور پر ترجیح دی۔

پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کا تعین براہ راست عالمی نرخوں اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر سے جڑا ہوتا ہے۔ جب عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھتی ہے یا روپے کی قدر میں کمی آتی ہے تو مقامی سطح پر سونا مزید مہنگا ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی لاگت میں اضافے نے بھی سونے کی قیمتوں کو اوپر دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نتیجتاً فی تولہ سونا 5 لاکھ 36 ہزار 562 روپے کی سطح تک پہنچ چکا ہے، جو عام صارفین کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

دس گرام سونے کی قیمت میں 2 ہزار 572 روپے کا اضافہ بھی نمایاں ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 4 لاکھ 60 ہزار 15 روپے ہو گئی ہے۔ چونکہ زیورات کی تیاری میں اکثر دس گرام کی بنیاد استعمال کی جاتی ہے، اس لیے اس اضافے کا براہ راست اثر زیورات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن یا تہواروں کے موقع پر سونے کی مانگ میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے قیمتیں مزید بلند ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی 146 روپے مہنگی ہو کر 9 ہزار 94 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ چاندی کی قیمت سونے کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، تاہم صنعتی استعمال اور زیورات میں اس کی مانگ بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ چاندی کی قیمت میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی مجموعی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر معاشی دباؤ اور جغرافیائی کشیدگی برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر عالمی معیشت میں استحکام آتا ہے اور ڈالر مستحکم ہوتا ہے تو قیمتوں میں کچھ حد تک کمی بھی ممکن ہے۔ تاہم موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ سونے کی قیمتیں قریب المستقبل میں بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے سونا ہمیشہ ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ یا کرنسی کی قدر میں کمی کے دوران لوگ اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سونے کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔ موجودہ اضافے نے بھی اسی رجحان کو واضح کیا ہے۔

عام شہریوں کے لیے یہ صورتحال قدرے مشکل ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو شادی یا دیگر تقریبات کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط طبقے کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے۔ سناروں اور جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں تیزی کے باعث خریداروں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے، تاہم سرمایہ کاری کے مقصد سے خریداری کرنے والے افراد اب بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔

مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانا چاہیے۔ اگرچہ سونا طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے، لیکن قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر یہی ہے کہ سرمایہ کاری سے قبل مارکیٹ کے رجحانات، عالمی معاشی حالات اور کرنسی کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے۔

مجموعی طور پر عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ معاشی رجحانات کا واضح عکاس ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونا 5138 ڈالر فی اونس تک پہنچ چکا ہے، جب کہ مقامی سطح پر فی تولہ سونا 5 لاکھ 36 ہزار 562 روپے اور دس گرام 4 لاکھ 60 ہزار 15 روپے کا ہو گیا ہے۔ چاندی بھی 9 ہزار 94 روپے فی تولہ تک جا پہنچی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ اس وقت تیزی کے رجحان سے گزر رہی ہے، جس کے اثرات ہر سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]