سٹاک مارکیٹ میں زبردست واپسی، انڈیکس 156 ہزار پوائنٹس پر پہنچ گیا

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس 156 ہزار پوائنٹس کی سطح پر بحال

پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاری کے شعبے کے لیے خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جہاں شدید مندی کے بعد ایک بار پھر مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی اور انڈیکس دوبارہ ایک اہم حد عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ تازہ ترین کاروباری سرگرمیوں کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں ہنڈرڈ انڈیکس دوبارہ ایک لاکھ 56 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال ہوگیا۔ یہ پیش رفت سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور مارکیٹ کے استحکام کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔

کاروباری ہفتے کے دوسرے روز جب مارکیٹ کا آغاز ہوا تو ابتدا ہی سے زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر خریداری کی، جس کے نتیجے میں ہنڈرڈ انڈیکس میں چار ہزار سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 56 ہزار 106 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا، جو حالیہ دنوں میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ دنوں کی شدید مندی کے بعد یہ تیزی مارکیٹ کے لیے نہایت اہم ہے اور اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بحالی کا پیغام ملتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر صورتحال اس کے برعکس تھی۔ اس روز مارکیٹ میں تاریخی نوعیت کی مندی دیکھنے میں آئی تھی جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ نتیجتاً انڈیکس ایک لاکھ 51 ہزار 972 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ اس اچانک اور بڑی گراوٹ نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی تھی اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم اگلے ہی دن تیزی کا رجحان ظاہر ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں استحکام واپس آ رہا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ عالمی اور علاقائی حالات سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب عالمی سطح پر سیاسی یا معاشی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کا اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے۔ حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے نے مارکیٹ پر اثر ڈالا تھا۔ لیکن اب سرمایہ کاروں کی جانب سے دوبارہ سرمایہ کاری بڑھنے سے مارکیٹ میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

دوسری جانب اگر عالمی منڈیوں کا جائزہ لیا جائے تو ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے۔ کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی کئی بڑی ایشیائی مارکیٹس میں مندی دیکھنے میں آئی۔ عالمی خبر ایجنسیوں کے مطابق جاپان کی سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز ہی کمی کے ساتھ ہوا اور انڈیکس میں 327 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح ٹوکیو سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے جس کے باعث مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی۔

اسی طرح جنوبی کوریا کی سٹاک مارکیٹ میں بھی منفی رجحان دیکھنے میں آیا اور مارکیٹ 1.26 فیصد تک گر گئی۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی خدشات، شرح سود میں ممکنہ تبدیلیاں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی اس کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس بھی تقریباً 2 فیصد تک گر گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی ایک اہم وجہ مقامی سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد اور مارکیٹ میں بڑے اداروں کی سرمایہ کاری ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور مالیاتی اصلاحات نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں انڈیکس مزید بہتری کی جانب جا سکتا ہے۔

ادھر کرنسی مارکیٹ میں بھی معمولی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ڈالر کی قیمت میں ایک پیسے کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد ڈالر 279 روپے 46 پیسے سے کم ہو کر 279 روپے 45 پیسے کا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کمی معمولی ہے، لیکن یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام برقرار ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی اور ڈالر کی قدر میں استحکام ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ اگر سرمایہ کاری کا یہی سلسلہ جاری رہا تو صنعتی اور تجارتی شعبوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ خاص طور پر بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

مزید برآں، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں حالیہ تیزی عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کر سکتی ہے۔ اگر عالمی حالات میں بہتری آئی اور علاقائی کشیدگی کم ہوئی تو غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف سٹاک مارکیٹ بلکہ مجموعی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

سرمایہ کاروں کے لیے ماہرین یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنائیں۔ طویل المدتی سرمایہ کاری کو ترجیح دینا اور مستحکم کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی حالات اور معاشی پالیسیوں پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ ان عوامل کا سٹاک مارکیٹ پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حالیہ کاروباری دن میں پاکستان سٹاک مارکیٹ کی بحالی ایک اہم پیش رفت ہے۔ شدید مندی کے بعد مارکیٹ میں تیزی کا آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار اب بھی مارکیٹ پر اعتماد رکھتے ہیں۔ اگر معاشی استحکام برقرار رہا اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا رہا تو آنے والے دنوں میں پاکستان کی سٹاک مارکیٹ مزید مضبوط ہو سکتی ہے اور ملکی معیشت کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]