‫400 کلو چاندی کیس: ایف بی آر کی بڑی کارروائی، سینئر افسران معطل، تحقیقات کا دائرہ وسیع‬

‫400 کلو چاندی کیس میں ایف بی آر کی بڑی کارروائی‬
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫400 کلو چاندی کیس: ایف بی آر کی بڑی کارروائی، سینئر افسران معطل، تحقیقات کا دائرہ وسیع‬

اسلام آباد: 400 کلو گرام چاندی کی مبینہ خوردبرد کے معاملے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے متعدد سینئر افسران کو معطل کر دیا ہے جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ادارہ جاتی احتساب کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے 19 اپریل 2026 کو چھٹی کے روز اہم کارروائی کرتے ہوئے اُس وقت کے کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ ڈاکٹر کرم علی (گریڈ 20)، ڈپٹی کلیکٹر حماد احمد (گریڈ 18) اور اسسٹنٹ کلیکٹر محمد یوسف (گریڈ 17) کو معطل کر دیا۔

اس کے علاوہ اس کیس میں پہلے سے گرفتار پریونٹیو افسران سمیع اللہ اچغزی اور عارف علی جمانی کو بھی باضابطہ طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں افسران اس وقت جیل میں ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

ایف بی آر کی تاریخ میں پہلی بار بڑی کارروائی

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ایک غیر معمولی پہلو یہ بھی ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ گریڈ 20 کے ایک سینئر افسر کے خلاف اس نوعیت کی ایف بی آر کی بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ گریڈ 20 کے افسران کو عام طور پر اے کیٹیگری افسران سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس اقدام کو ادارے میں شفاف احتساب کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ایف بی آر کی بڑی کارروائی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ادارے میں احتساب کا عمل بغیر کسی دباؤ اور امتیاز کے جاری رکھا جائے گا اور کسی بھی سطح پر ملوث افراد کو نہیں بخشا جائے گا۔

قیادت کی واضح ہدایات

ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا کریڈٹ چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال اور چیف کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ باسط مسعود عباسی کو دیا جا رہا ہے، جنہوں نے واضح ہدایات جاری کیں کہ کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ باسط مسعود عباسی کی نگرانی میں اس کیس کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور ادارہ جاتی سطح پر تحقیقات کو مؤثر انداز میں جاری رکھا گیا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

دو انکوائری کمیٹیاں قائم

اس سے قبل ایف بی آر نے کیس کی مکمل تحقیقات کیلئے دو انکوائری کمیٹیاں قائم کی تھیں۔ ایک کمیٹی بورڈ کی سطح پر عائشہ وانی کی سربراہی میں کام کر رہی ہے، جبکہ دوسری کمیٹی کلیکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ میں قائم کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں کمیٹیاں تکنیکی، انتظامی اور قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں تاکہ واقعے کی مکمل تصویر سامنے آ سکے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

چاندی افغانستان اسمگل ہونے کا انکشاف

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ چوری شدہ 400 کلو چاندی مبینہ طور پر اسمگلرز کے ذریعے افغانستان منتقل کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال اور سرحدی چیلنجز کے باعث فوری ریکوری ممکن نہیں، تاہم اس حوالے سے کوششیں جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکام مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ چاندی کی ریکوری اور ملوث افراد کی گرفتاری کو ممکن بنایا جا سکے۔

مزید گرفتاریاں متوقع

تحقیقات میں پیش رفت کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔ حکام کے مطابق یہ کیس ایک بڑے نیٹ ورک کی نشاندہی کر رہا ہے جس میں مختلف سطحوں پر افراد کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

قومی خزانے کو نقصان

سونا قیمت پاکستان اضافہ
پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، نئی بلند سطح پر پہنچ گئی

حکام کے مطابق 400 کلو چاندی کی خوردبرد قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کا باعث بنی ہے۔ ایف بی آر کی کوشش ہے کہ نہ صرف ذمہ دار افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے بلکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے۔

شفاف احتساب کی جانب اہم قدم

تجزیہ کاروں کے مطابق 400 کلو چاندی کیس میں سینئر افسران کے خلاف کارروائی ادارہ جاتی احتساب کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ایف بی آر کی بڑی کارروائیوں سے اداروں میں شفافیت اور احتساب کا عمل مضبوط ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق 400 کلو چاندی کیس کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]