نئے وفاقی بجٹ میں تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
وفاقی بجٹ 2026 تعلیم اور ایچ ای سی کے حوالے سے اہم تجاویز سامنے آئی ہیں جن کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال میں تعلیم، صحت، ہنر مندی اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے پر غور کر رہی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے ابتدائی مسودے کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور تعلیمی شعبے کیلئے 78.5 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق شعبہ صحت کیلئے 22 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جن میں سے 20.70 ارب روپے مقامی وسائل جبکہ 1.30 ارب روپے بیرونی امداد سے فراہم کیے جائیں گے۔ اسی طرح صحت اور غذائیت کے مختلف منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 24.3 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ترقیاتی بجٹ کے تحت سماجی شعبے کیلئے 187.2 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، جن میں سے 2.2 فیصد حصہ صحت کے منصوبوں کیلئے مختص ہوگا۔ امراض قلب سے بچاؤ، تحقیق اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی خصوصی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق امراض قلب کی روک تھام اور تحقیق کیلئے 1.5 ارب روپے جبکہ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی توسیع کیلئے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اسلام آباد میں جدید میڈیکل سٹی کے قیام کیلئے زمین کے حصول کی غرض سے علامتی فنڈز بھی رکھے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
تعلیمی شعبے میں مستحق طلبہ کیلئے 3 ارب روپے کے وظائف تجویز کیے گئے ہیں تاکہ مالی مشکلات کا شکار طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے 3.29 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
بجٹ تجاویز میں مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کیلئے 150 کروڑ روپے کے خصوصی تعلیمی وظائف رکھنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ حکومت تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق دانش اسکولز نیٹ ورک کو ملک کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں تک توسیع دینے کیلئے بھی اربوں روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ نئے دانش اسکول بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور ڈیرہ بگٹی میں قائم کیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح آزاد کشمیر کے باغ، بھمبر، شاردہ اور حویلی کہوٹہ جبکہ گلگت بلتستان کے سلطان آباد، شگر، استور اور سکردو میں بھی دانش اسکولز کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔ سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان اور خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں بھی نئے دانش اسکول بنانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
علاوہ ازیں ضم شدہ اضلاع کی ترقی کیلئے 66.1 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 79.4 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز بجٹ کا حصہ بنتی ہیں تو تعلیم، صحت، نوجوانوں کی مہارتوں اور پسماندہ علاقوں کی ترقی میں اہم پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ تاہم حتمی اعداد و شمار اور فنڈز کی منظوری وفاقی بجٹ پیش ہونے کے بعد واضح ہوگی








