گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں پولنگ مکمل، نتائج کا انتظار
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے 24 نشستوں پر پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ انتخابات کے دوران صوبے بھر میں ووٹرز نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا جبکہ مختلف حلقوں میں صبح سے شام تک پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا اور شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔ مقررہ وقت کے بعد پولنگ اسٹیشنوں کے دروازے بند کر دیے گئے اور ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کردیا گیا۔
گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں تھے جن میں 396 مرد اور 8 خواتین امیدوار شامل تھیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ بڑی تعداد میں آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شریک رہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔ ان میں 349 پولنگ اسٹیشن حساس جبکہ 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے تھے۔ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پولیس، جی بی اسکاؤٹس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے۔
انتخابی عمل کے دوران بیشتر علاقوں میں صورتحال پرامن رہی تاہم بعض مقامات پر معمولی تنازعات بھی رپورٹ ہوئے۔ اسکردو میں پولنگ اسٹیشن کے قریب غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر تلخ کلامی ہوئی جسے پولیس نے فوری طور پر قابو میں لے لیا۔ استور کے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کی رفتار سست ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے جمہوری عمل میں بھرپور حصہ لیا۔ ان کے مطابق پولنگ کا عمل مقررہ وقت پر شروع ہوا اور مجموعی طور پر ماحول اطمینان بخش رہا۔
سیاسی لحاظ سے کئی حلقے انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔ جی بی اے 1 گلگت میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ اسی طرح جی بی اے 2 گلگت بھی انتہائی دلچسپ حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں بڑے سیاسی نام آمنے سامنے ہیں۔
جی بی اے 18 دیامر میں سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر نمایاں سیاسی شخصیات کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ غذر، استور اور سکردو کے متعدد حلقے بھی سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 23، مسلم لیگ (ن) کے 22، استحکام پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار میدان میں تھے۔ اس کے علاوہ مجلس وحدت المسلمین، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں نے بھی انتخابی عمل میں حصہ لیا جبکہ 266 آزاد امیدواروں نے قسمت آزمائی کی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس مرتبہ کئی حلقوں میں انتہائی سخت مقابلے کے باعث نتائج میں غیر متوقع تبدیلیاں بھی سامنے آسکتی ہیں۔ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ شروع ہوگا جبکہ حتمی نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جائیں گے۔
عوام، سیاسی جماعتیں اور امیدوار اب ووٹوں کی گنتی کے عمل پر نظریں جمائے ہوئے ہیں کیونکہ آنے والے چند گھنٹے گلگت بلتستان کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے
READ MORE FAQS
Q: گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں کتنی نشستوں پر پولنگ ہوئی؟
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔
Q: انتخابات میں کتنے امیدواروں نے حصہ لیا؟
مجموعی طور پر 403 امیدوار انتخابات میں شریک ہوئے۔
Q: کتنے پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے؟
الیکشن کمیشن نے 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے تھے۔
Q: حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد کتنی تھی؟
349 حساس جبکہ 551 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن قرار دیے گئے تھے۔








