امریکا ایران معاہدے میں صدر ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن، ٹرمپ نے مسودے میں ترامیم کا مطالبہ کر دیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا ایران معاہدے کے مسودے کا جائزہ لیتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا ایران معاہدے میں صدر ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن، ٹرمپ نے مسودے میں ترامیم کا مطالبہ کر دیا

واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے ابتدائی مسودے میں متعدد ترامیم شامل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق شقوں کو مزید واضح اور مؤثر بنایا جا سکے۔

امریکی ویب سائٹ “ایگزیوس” کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ ممکنہ امریکا ایران معاہدے کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور ان کے مستقبل سے متعلق نکات کو زیادہ وضاحت کے ساتھ حتمی معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری ہتھیار پر گفتگو کرتے ہوئے
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر آمادہ

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے اہم اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے معاہدے کے مسودے کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ترامیم شامل کرنے کی ہدایت کی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر، ان کی ممکنہ منتقلی اور نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق مزید واضح ضمانتیں چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے تنازع یا ابہام سے بچا جا سکے۔

امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنے اور عالمی تجارت کی بحالی سے متعلق شقوں میں بھی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ معاہدے کی زبان زیادہ مضبوط اور قابلِ عمل ہونی چاہیے تاکہ اس پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے مجوزہ ترامیم ایران کو بھجوا دی گئی ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ تہران آئندہ تین روز کے اندر ان تجاویز پر اپنا جواب دے گا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک متنازع نکات پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو معاہدہ ایک ہفتے یا اس سے بھی کم مدت میں طے پا سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ حالیہ برسوں میں امریکا اور ایران کے درمیان سب سے اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ امریکا ایران معاہدے کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی آئے گی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]