کویت ائیرپورٹ ڈرون حملہ: ویڈیو جاری، تباہی کی اصل کہانی سامنے آگئی

کویت ائیرپورٹ ڈرون حملہ کے بعد تباہ شدہ ٹرمینل کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کویت ائیرپورٹ ڈرون حملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ کویتی حکام نے واقعے کی سرویلنس ویڈیو جاری کر دی ہے جس میں حملے کے وقت کے مناظر اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

کویتی حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ڈرون تیزی سے آ کر کویت انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے ٹرمینل ون سے ٹکرا گیا۔ تصادم کے فوراً بعد زور دار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث ائیرپورٹ کے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچا۔

جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معمول کی سرگرمیاں جاری تھیں کہ اچانک ایک تیز رفتار شے ائیرپورٹ کی عمارت کی جانب بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ چند لمحوں بعد دھماکہ ہوتا ہے اور ہر طرف دھواں پھیل جاتا ہے۔ ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا میں اس واقعے پر وسیع بحث شروع ہو گئی ہے۔

کویتی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے کے دوران فضائی دفاعی نظام کو غیر معمولی چیلنجز کا سامنا تھا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے امریکی ساختہ پیٹریاٹ دفاعی نظام میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے آنے والے ڈرون کو بروقت روکا نہ جا سکا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام کی ناکامی کے باعث ڈرون ائیرپورٹ کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب رہا اور بالآخر ٹرمینل سے جا ٹکرایا۔ واقعے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 63 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

زخمیوں میں متعدد مسافر، ائیرپورٹ ملازمین اور دیگر افراد شامل ہیں۔ طبی حکام کے مطابق بیشتر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے جبکہ بعض افراد کو دھماکے کے باعث شدید چوٹیں آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت ائیرپورٹ ڈرون حملہ میں کسی بھی قسم کے کردار کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایرانی حکام نے جاری بیان میں کہا کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور ایران کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

ایرانی مؤقف سامنے آنے کے بعد خطے میں جاری سیاسی اور سفارتی بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ مختلف بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد خلیجی خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق کویت ائیرپورٹ ڈرون حملہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جدید فضائی دفاعی نظام کے باوجود ایک ڈرون حساس تنصیب تک کیسے پہنچ گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید انسدادِ ڈرون ٹیکنالوجی اور مربوط فضائی نگرانی کی ضرورت ہوگی۔

کویت حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق مختلف سکیورٹی ادارے اور تکنیکی ماہرین واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملے کی اصل نوعیت اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔

اس واقعے کے بعد کویت سمیت کئی خلیجی ممالک نے اپنے اہم ہوائی اڈوں، سرکاری تنصیبات اور حساس مقامات کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث خطے میں فضائی سکیورٹی کے نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔

عالمی سطح پر بھی اس واقعے کو تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔

کویت ائیرپورٹ ڈرون حملہ نہ صرف ایک بڑا سکیورٹی واقعہ ہے بلکہ اس نے خطے میں فضائی دفاعی نظام، ڈرون خطرات اور علاقائی کشیدگی سے متعلق کئی اہم سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ حملے کی اصل وجوہات کیا تھیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات ضروری ہوں گے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]