ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: بھائی کا جذباتی بیان سامنے آگیا

ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ، کوئٹہ اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کی صورتحال
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کوئٹہ اسپتال میں تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور، بھائی نے عوام سے دعاؤں اور حمایت کی اپیل کردی

ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ ایک ایسا افسوسناک واقعہ ہے جس نے نہ صرف طبی برادری بلکہ پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کوئٹہ کے ایک اسپتال میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد متاثرہ ڈاکٹر کے اہل خانہ شدید صدمے سے دوچار ہیں جبکہ عوامی حلقوں کی جانب سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب ڈاکٹر ماہ نور اسپتال کے سرجری وارڈ میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہی تھیں۔ اسی دوران ایک نامعلوم شخص یا افراد کی جانب سے ان پر تیزاب پھینکا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید متاثر ہوئیں۔

واقعے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور کے بھائی فرحت خان نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے اپنی بہن کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو انتہائی دلخراش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کے لیے یہ لمحہ ناقابل بیان اذیت کا باعث ہے اور وہ اس مشکل وقت میں عوام کی دعاؤں اور حمایت کے طلبگار ہیں۔

فرحت خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی بہن ایک محنتی اور پیشہ ور ڈاکٹر ہیں جو مریضوں کی خدمت میں مصروف تھیں۔ ان پر اس طرح کا حملہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے طبی شعبے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ڈاکٹر ماہ نور کی صحت یابی کے لیے دعا کریں اور ان کے خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں۔

اس واقعے کے بعد طبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ کئی ڈاکٹروں اور سماجی کارکنوں نے اسپتالوں میں کام کرنے والے طبی عملے کی سیکیورٹی مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد معاشرے کی خدمت میں دن رات مصروف رہتے ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

ماہرین کے مطابق تیزاب گردی ایک سنگین جرم ہے جس کے متاثرین نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے واقعات متاثرہ فرد اور اس کے خاندان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

سماجی تنظیموں نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ ڈاکٹر کو ہر ممکن طبی اور قانونی معاونت فراہم کی جائے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ حملہ آور یا حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے معاشرے میں خواتین کے تحفظ، پیشہ ور افراد کی سیکیورٹی اور تیزاب گردی جیسے جرائم کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے انصاف اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ خاندان کی جانب سے جاری بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ہمدردی اور دعاؤں کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ڈاکٹر ماہ نور کی جلد صحت یابی اور خاندان کے لیے صبر و استقامت کی دعا کر رہے ہیں

READ MORE FAQS

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]