ایران پر امریکی حملے: بی ون بمبار طیارہ تعینات، مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستے پہنچ گئے
ایران پر حملے مزید تیز کرنے کی امریکی تیاریاں نمایاں ہوتی جا رہی ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق امریکا نے اپنے جدید B-1 لانسر (B-1 Lancer) بمبار طیارے کو برطانیہ میں موجود امریکی فضائی اڈے پر تعینات کر دیا ہے، جبکہ امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز، اضافی فوجی دستے، طبی عملہ اور جدید اسلحہ بھی مشرقِ وسطیٰ بھیج دیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں فوجی سرگرمیوں میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے، تاہم ان پیش رفتوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے فوجی بحران کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کا B-1 بمبار طیارہ برطانیہ کے ایک امریکی فضائی اڈے پر پہنچ چکا ہے۔ یہ طیارہ دنیا کے جدید ترین اسٹریٹجک بمباروں میں شمار ہوتا ہے اور طویل فاصلے تک بڑی مقدار میں روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق B-1 بمبار مختلف اقسام کے گائیڈڈ بم، کروز میزائل اور دیگر جدید ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی تعیناتی اس بات کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ امریکا خطے میں اپنی فوجی تیاریوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی بھی شروع کر دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اضافی فوجی اہلکاروں کے ساتھ طبی عملہ، دفاعی سازوسامان اور لاجسٹک سپورٹ بھی خطے میں منتقل کی جا رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر امریکی افواج فوری کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھیں۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز اپنے ملکی اڈوں سے روانہ ہو کر مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکی ہیں۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور امریکی حکام کی معلومات کے مطابق کئی فوجی پروازیں مسلسل خطے کی جانب روانہ ہوئیں، جن کے ذریعے فوجی سازوسامان اور اہلکار منتقل کیے گئے۔
اس کے علاوہ امریکی اور اتحادی لڑاکا طیاروں کے متعدد اسکواڈرن بھی مختلف فوجی اڈوں پر تعینات کیے جا چکے ہیں۔ برطانیہ اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فضائی اڈوں پر بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری ردعمل دیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال خطے کی سکیورٹی کے لیے نہایت حساس مرحلہ اختیار کر چکی ہے۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی ممالک، عالمی توانائی کی منڈی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا کی جانب سے فوجی تیاریوں میں اضافہ ایک مضبوط دفاعی پیغام بھی تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی حلقے اب بھی کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کو اہم قرار دے رہے ہیں۔
تاحال ایران کی جانب سے امریکی فوجی نقل و حرکت پر باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران کی حکمت عملی خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا تعین کرے گی۔ اس دوران بین الاقوامی برادری سفارتی کوششوں کے ذریعے کسی بڑے فوجی تصادم سے بچنے کی امید ظاہر کر رہی ہے۔








