پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مالیاتی مفاہمت، این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی محفوظ
پی پی اور ن لیگ مالیاتی معاہدہ پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم اور وفاقی مالی دباؤ میں کمی کے حوالے سے ایک وسیع مفاہمت طے پا گئی ہے۔
اس مفاہمت کے تحت دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاق کو بڑھتے مالیاتی چیلنجز اور بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان ہونے والی مشاورت میں اس بات پر زور دیا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ جیسے حساس آئینی اور سیاسی معاملے کو دوبارہ کھولنے سے گریز کیا جائے۔ اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جو ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ پروگرام سمجھا جاتا ہے، اس کی فنڈنگ اور دائرہ کار بھی متاثر نہیں ہوگا۔
وفاق کو مالی ریلیف دینے کی کوشش
رپورٹس کے مطابق مجوزہ فریم ورک کے تحت صوبے مختلف انتظامی اور مالیاتی اقدامات کے ذریعے وفاقی حکومت کے مالی دباؤ کو کم کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ تخمینوں کے مطابق 10 کھرب روپے سے زائد مالی وسائل کے انتظام سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
تاہم یہ مالی ایڈجسٹمنٹ براہ راست این ایف سی حصے میں کمی کی صورت میں نہیں ہوگی بلکہ دیگر متبادل ذرائع اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں ترقیاتی اخراجات کی نئی ترتیب، بعض وفاقی منصوبوں کی صوبوں کو منتقلی، یا مشترکہ مالی ذمہ داریوں کی ازسرنو تقسیم شامل ہو سکتی ہے۔
بجٹ میں تاخیر کی اہم وجہ
سیاسی اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بھی یہی معاملات تھے۔ پیپلز پارٹی مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی کہ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی کو کسی بھی قسم کی تبدیلی سے محفوظ رکھا جائے۔
دوسری جانب بعض معاشی حلقے طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والے وسائل میں اضافے کے باعث وفاق کے پاس ترقیاتی اور انتظامی اخراجات کے لیے محدود مالی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے مذاکرات کے دوران واضح کیا کہ این ایف سی ایوارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پارٹی کے لیے نہایت اہم سیاسی اور عوامی نوعیت کے معاملات ہیں۔ اس لیے ان پروگراموں اور آئینی مالیاتی فارمولے کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
پارٹی قیادت کا مؤقف تھا کہ اگر مالی ایڈجسٹمنٹ درکار ہے تو اس کے لیے متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں، لیکن سماجی تحفظ کے پروگراموں اور صوبائی مالی حقوق کو متاثر نہ کیا جائے۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان نئی ہم آہنگی
مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے مذاکرات میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ معاشی حالات میں صوبوں اور وفاق کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اس نکتے سے اتفاق کر چکی ہے کہ ملک کو درپیش مالی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یہ مجوزہ مفاہمت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس سے وفاقی حکومت کو مالی گنجائش مل سکتی ہے جبکہ صوبوں کے آئینی حقوق اور سماجی تحفظ کے منصوبے بھی برقرار رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق اب تکنیکی کمیٹیاں مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہیں اور جلد ہی ایک قابلِ عمل فریم ورک تیار کیا جائے گا۔ اس کے بعد اعلیٰ سیاسی قیادت حتمی منظوری دے گی اور ممکنہ طور پر آئندہ وفاقی بجٹ میں اس کے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
READ MORE FAQS
پی پی اور ن لیگ مالیاتی معاہدہ کیا ہے؟
یہ ایک سیاسی و مالیاتی مفاہمت ہے جس کے تحت وفاقی مالی دباؤ کم کرنے اور وسائل کی تقسیم کے نظام کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
کیا این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی ہوگی؟
ذرائع کے مطابق موجودہ این ایف سی ایوارڈ فارمولہ برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔
کیا بی آئی ایس پی ختم یا صوبوں کو منتقل کیا جائے گا؟
نہیں، بی آئی ایس پی کے موجودہ ڈھانچے اور فنڈنگ کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
وفاق کو مالی ریلیف کیسے ملے گا؟
مالی ایڈجسٹمنٹ متبادل ذرائع، ترقیاتی اخراجات کی نئی ترتیب اور مشترکہ مالی ذمہ داریوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔








