کراچی حیدرآباد ترقیاتی پیکج: وزیراعظم اور ایم کیو ایم میں 25 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر اتفاق

کراچی حیدرآباد ترقیاتی پیکج پر وزیراعظم شہباز شریف اور ایم کیو ایم وفد کی ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزیراعظم شہباز شریف کی ایم کیو ایم وفد سے ملاقات، کراچی اور حیدرآباد کیلئے 25 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کی منظوری

کراچی حیدرآباد ترقیاتی پیکج کے حوالے سے وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایم کیو ایم پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی جس میں سندھ کے شہری علاقوں کی ترقی، بلدیاتی نظام، آئینی ترامیم اور آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، امین الحق اور جاوید حنیف شریک ہوئے جبکہ حکومتی وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی اور حیدرآباد کے لیے خصوصی ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس مطالبے سے اتفاق کرتے ہوئے کراچی کیلئے 20 ارب روپے اور حیدرآباد کیلئے 5 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کی اصولی منظوری دے دی۔

یہ ترقیاتی فنڈز شہری انفراسٹرکچر، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، نکاسی آب، پانی کی فراہمی، صحت اور تعلیم کے منصوبوں پر خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔ کراچی اور حیدرآباد ملک کے اہم شہری مراکز ہیں جہاں آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث بنیادی سہولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ملاقات کے دوران بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیمی بل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کیلئے آئینی تحفظات اور تجاویز وزیراعظم کے سامنے پیش کیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ایم کیو ایم پاکستان کے مجوزہ آئینی ترمیمی بل کی حمایت کرتی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی مشاورت کی جائے گی تاکہ ایک قابلِ قبول سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی اور حیدرآباد کیلئے ترقیاتی پیکج نہ صرف شہری مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے بلکہ وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان سیاسی تعاون کو بھی مزید مضبوط بنائے گا۔

ملاقات میں آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایم کیو ایم پاکستان نے شہری علاقوں کی ترقی، عوامی فلاحی منصوبوں اور انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے اضافی وسائل مختص کرنے کی سفارشات پیش کیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے ترقیاتی منصوبوں کو مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو جلد از جلد بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس مقصد کیلئے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہوتے ہیں تو کراچی اور حیدرآباد میں ٹریفک، پانی، سیوریج، صحت اور دیگر شہری مسائل میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ منصوبے مقامی معیشت، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔

وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات مستقبل کی سیاسی اور ترقیاتی حکمت عملی کے حوالے سے اہم قرار دی جا رہی ہے، جس کے نتائج آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہوں گے۔

READ MORE FAQS

کراچی اور حیدرآباد کیلئے کتنے ارب روپے کا ترقیاتی پیکج منظور ہوا؟

کراچی کیلئے 20 ارب روپے جبکہ حیدرآباد کیلئے 5 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج منظور کیا گیا۔

وزیراعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم کے کون سے رہنما شریک تھے؟

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، امین الحق اور جاوید حنیف ملاقات میں شریک تھے۔

ترقیاتی فنڈز کن منصوبوں پر خرچ ہوں گے؟

متوقع طور پر سڑکوں، پانی، سیوریج، صحت، تعلیم اور دیگر شہری بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔

آئینی ترمیمی بل کے حوالے سے کیا پیشرفت ہوئی؟

وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے مجوزہ آئینی ترمیمی بل کی حمایت کی یقین دہانی کرائی اور پیپلز پارٹی سے مشاورت کا وعدہ کیا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]