گلگت بلتستان حکومت سازی: علیم خان نے بلاول بھٹو کی پیشکش قبول کرلی

گلگت بلتستان حکومت سازی میں علیم خان اور بلاول بھٹو کی سیاسی مفاہمت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کیلئے آئی پی پی اور پیپلز پارٹی کا اتحاد، علیم خان کی مکمل حمایت کا اعلان

گلگت بلتستان حکومت سازی کے عمل میں ایک اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت سازی کے لیے دی گئی پیشکش قبول کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین Bilawal Bhutto Zardari نے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر Abdul Aleem Khan سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ اس گفتگو میں گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت سازی، وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر آئینی عہدوں کے انتخاب کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رابطے کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے استحکام پاکستان پارٹی کو گلگت بلتستان میں مشترکہ حکومت سازی کی باضابطہ دعوت دی۔ اس موقع پر علیم خان نے مثبت جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت خطے میں سیاسی استحکام اور ترقی کے لیے پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی۔

علیم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ان کی بات چیت انتہائی خوشگوار اور مثبت ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ استحکام پاکستان پارٹی گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر اہم عہدوں کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کرے گی۔

سیاسی حلقوں کے مطابق اس اتحاد کے بعد پیپلز پارٹی کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے اور حکومت سازی کے عمل میں اسے واضح برتری حاصل ہونے کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا عمل جاری تھا، تاہم آئی پی پی کی حمایت نے سیاسی منظرنامے کو کافی حد تک واضح کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد نہ صرف حکومت سازی میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ خطے میں سیاسی استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ پیپلز پارٹی پہلے ہی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان کی حمایت سے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے حالیہ انتخابات کے بعد مختلف جماعتیں حکومت سازی کے لیے سرگرم تھیں۔ پیپلز پارٹی نے سب سے پہلے سیاسی رابطوں کا آغاز کیا اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ اسی سلسلے میں بلاول بھٹو زرداری نے علیم خان سے رابطہ کیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں آئندہ حکومت کے قیام سے ترقیاتی منصوبوں، سیاحت کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ خطے کی جغرافیائی اہمیت اور اقتصادی امکانات کے باعث مستحکم حکومت کا قیام انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی اس پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام جمہوری قوتوں کو مل کر گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کرنی چاہیے۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ سیاسی اتحاد عوامی مسائل کے حل اور خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

استحکام پاکستان پارٹی کے ذرائع کے مطابق جماعت خطے میں سیاسی استحکام اور ترقیاتی ایجنڈے کو ترجیح دے رہی ہے، اسی لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

حکومت سازی کے اگلے مرحلے میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائد ایوان کے انتخاب کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کے اشتراک سے یہ تمام مراحل آسانی سے مکمل ہو جائیں گے۔

گلگت بلتستان کی سیاست میں یہ اتحاد آنے والے دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ خطے کی ترقی اور سیاسی استحکام کے لیے مضبوط حکومت کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

READ MORE FAQS

سوال 1: گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے کون سی جماعتیں متحد ہوئی ہیں؟
جواب: پاکستان پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی نے حکومت سازی کے لیے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

سوال 2: علیم خان نے کیا اعلان کیا ہے؟
جواب: علیم خان نے بلاول بھٹو زرداری کی پیشکش قبول کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

سوال 3: پیپلز پارٹی کو کس معاملے میں حمایت ملے گی؟
جواب: وزیراعلیٰ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور دیگر اہم عہدوں کے انتخاب میں حمایت حاصل ہوگی۔

سوال 4: گلگت بلتستان کا متوقع وزیراعلیٰ کون ہو سکتا ہے؟
جواب: پیپلز پارٹی نے امجد حسین ایڈووکیٹ کو وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:14 AM
طلوع آفتاب04:58 AM
ظہر12:10 PM
عصر03:54 PM
مغرب07:21 PM
عشاء09:05 PM