فیلڈ مارشل عاصم منیر اور لیفٹیننٹ جنرل صدام حفتر کی جی ایچ کیو میں اہم ملاقات
عاصم منیر سے صدام حفتر کی ملاقات جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوئی جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لیبیا کی عرب مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کا خیر مقدم کیا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کی آمد پر تینوں مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون اور فوجی روابط کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں عسکری رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور لیبیا کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان آرمی کے امن، استحکام اور دوست ممالک کے ساتھ مضبوط اور تعمیری تعلقات کے فروغ کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتا رہے گا۔
ملاقات میں پیشہ ورانہ فوجی تربیت، انسداد دہشت گردی، دفاعی مہارتوں کے تبادلے اور سکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے عسکری اداروں کے درمیان روابط کو مزید فعال بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔
لیبیائی وفد کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تربیتی معیار کو سراہتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاک فوج کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور لیبیا کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے عسکری اداروں کے درمیان تعاون میں اضافہ خطے میں استحکام اور مشترکہ مفادات کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
READ MORE FAQS
لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کون ہیں؟
وہ لیبیا کی عرب مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف ہیں۔
ملاقات کہاں ہوئی؟
ملاقات جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوئی۔
ملاقات میں کن امور پر گفتگو ہوئی؟
دفاعی تعاون، علاقائی سکیورٹی، فوجی روابط اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کیا گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا؟
جی ہاں، لیبیائی وفد کے سربراہ کو جی ایچ کیو آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔







