کراچی رینجرز کیمپ حملہ ناکام، جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار
کراچی رینجرز کیمپ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کراچی میں رینجرز کے ایک کیمپ کے مرکزی گیٹ پر دھماکے کے بعد حملہ آوروں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنا دیا۔
سرکاری بیان کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران تین حملہ آور ہلاک جبکہ ایک زخمی حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان رینجرز کے تین اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اہلکاروں کی قربانیاں دہشتگردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ ناکام بنانے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
READ MORE FAQS
- کراچی میں حملہ کہاں ہوا؟
سرکاری بیان کے مطابق حملہ کراچی میں پاکستان رینجرز کے ایک کیمپ کے مرکزی گیٹ پر کیا گیا۔
- کتنے حملہ آور مارے گئے؟
آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی میں تین حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی حملہ آور گرفتار کیا گیا۔
- رینجرز کو کیا نقصان پہنچا؟
سرکاری بیان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں رینجرز کے تین اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے۔
- کیا آپریشن مکمل ہو گیا ہے؟
آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔








