مبینہ سائبر حملہ: بھارتی نیوز چینل اے بی پی نیوز کی نشریات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز متاثر
اے بی پی نیوز سائبر حملہ سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کے معروف نجی نیوز چینل اے بی پی نیوز (ABP News) کو نامعلوم ہیکرز نے مبینہ طور پر سائبر حملے کا نشانہ بنایا، جس کے باعث اس کی نشریات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عارضی طور پر متاثر ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے دوران چینل کی براہِ راست نشریات کچھ وقت کے لیے معطل ہوئیں جبکہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپلی کیشنز بھی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بعض غیر مصدقہ دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا کہ ہیکرز نے چینل کے بعض آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر مذہبی مواد اور ایک ویڈیو نشر کی، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
اب تک اے بی پی نیوز یا متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل نوعیت، ذمہ دار عناصر یا ممکنہ نقصان سے متعلق کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اے بی پی نیوز بھارت کے نمایاں نجی نیوز چینلز میں شمار ہوتا ہے۔ چینل کا آغاز 1998 میں اسٹار نیوز کے نام سے ہوا تھا، بعد ازاں اسے اے بی پی نیوز کے نام سے ری برانڈ کیا گیا۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ میڈیا اداروں کے لیے مضبوط سائبر دفاعی نظام کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں میڈیا ہاؤسز، سرکاری ادارے اور نجی کمپنیاں مسلسل جدید سائبر خطرات کا سامنا کر رہی ہیں، جس کے باعث حفاظتی نظام کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔
READ MORE FAQS
- کس بھارتی چینل پر مبینہ سائبر حملے کی اطلاعات ہیں؟
رپورٹس کے مطابق اے بی پی نیوز (ABP News) مبینہ سائبر حملے سے متاثر ہوا۔
- حملے سے کیا متاثر ہوا؟
اطلاعات کے مطابق نشریات، موبائل ایپلی کیشنز اور بعض ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عارضی طور پر متاثر ہوئے۔
- کیا اے بی پی نیوز نے واقعے کی تصدیق کی ہے؟
اب تک چینل کی جانب سے واقعے پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
- کیا ہیکرز سے متعلق دعوے کی تصدیق ہو چکی ہے؟
نہیں، حملے اور اس کی ذمہ داری سے متعلق کئی دعوے تاحال آزاد اور مستند ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔








