کرنل شیر خان شہید 27ویں برسی: وزیراعظم اور مسلح افواج کا شاندار خراجِ عقیدت

کرنل شیر خان شہید 27ویں برسی پر خراج عقیدت
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کرنل شیر خان شہید کی 27ویں برسی، وزیراعظم شہباز شریف اور مسلح افواج کا عظیم قربانی کو سلام

کرنل شیر خان شہید 27ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ کارگل جنگ کے ہیرو اور نشانِ حیدر حاصل کرنے والے کرنل شیر خان شہید کی لازوال قربانی کو یاد کرتے ہوئے قومی قیادت، پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ کرنل شیر خان شہید نے انتہائی مشکل اور ناموافق حالات میں جس بے مثال جرات، قیادت اور قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ پاکستان کی عسکری تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن سے محبت، فرض شناسی اور قومی دفاع کے لیے دی گئی یہ قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری ان عظیم سپوتوں کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سمیت پاکستان کی مسلح افواج نے بھی کرنل شیر خان شہید کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

مسلح افواج کے پیغام میں کہا گیا کہ کرنل شیر خان شہید نے 1999 کی کارگل جنگ کے دوران غیر معمولی بہادری، جرات اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانی پاک فوج کی اعلیٰ روایات، پیشہ ورانہ مہارت اور حب الوطنی کی روشن مثال ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ کرنل شیر خان شہید کی شجاعت، ایثار اور وطن سے محبت آج بھی افواجِ پاکستان اور پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی زندگی نوجوان نسل کو وطن سے محبت، فرض شناسی اور قومی خدمت کا درس دیتی ہے۔

کارگل جنگ میں کرنل شیر خان شہید کی جرات کا اعتراف دشمن نے بھی کیا تھا۔ انہوں نے انتہائی دشوار حالات میں اگلے مورچوں پر رہتے ہوئے اپنی یونٹ کی قیادت کی اور دشمن کے متعدد حملے ناکام بنائے۔ ان کی غیر معمولی بہادری کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔

پاکستان بھر میں مختلف تقریبات، دعائیہ اجتماعات اور خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ وطن کے دفاع کے لیے جان قربان کرنے والے سپوت پوری قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

پاکستان کے عوام اور مسلح افواج نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے ہر قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ کرنل شیر خان شہید کی زندگی، بہادری اور قربانی آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی اور قومی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جاتی رہے گی۔

READ MORE FAQS

کرنل شیر خان شہید کون تھے؟

کرنل شیر خان شہید پاک فوج کے بہادر افسر تھے جنہوں نے 1999 کی کارگل جنگ میں غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہادت حاصل کی۔

کرنل شیر خان کو کون سا اعزاز ملا؟

انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا گیا۔

کرنل شیر خان شہید کی برسی کب منائی جاتی ہے؟

ہر سال 5 جولائی کو ان کی برسی عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے۔

کارگل جنگ میں کرنل شیر خان کا کردار کیا تھا؟

انہوں نے اگلے محاذ پر رہ کر اپنی یونٹ کی قیادت کی اور دشمن کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔