علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں تین بیٹے شریک، مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث تقریب میں نہ آئے
علی خامنہ ای نماز جنازہ میں ایران کے دارالحکومت تہران میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جہاں ملک بھر سے عوام، اعلیٰ حکومتی شخصیات، مذہبی رہنما اور مختلف ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔ اس موقع پر علی خامنہ ای کے تین بیٹے مسعود خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مصطفیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے، جبکہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات میں ادا کی گئی۔ تقریب کے دوران ایرانی عوام کی بڑی تعداد نے اپنے سابق رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ ملکی قیادت اور اعلیٰ عسکری حکام بھی جنازے میں شریک ہوئے۔ پاسدارانِ انقلاب کے قائم مقام سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی بھی تقریب میں موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق مسعود، میثم اور مصطفیٰ خامنہ ای کو دیگر سوگواران کے ساتھ نمازِ جنازہ میں دیکھا گیا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کے باعث انہیں عوامی تقریب میں شریک نہ ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اگرچہ ایرانی حکام نے اس حوالے سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم مختلف میڈیا رپورٹس میں ممکنہ سکیورٹی خطرات کو ان کی عدم شرکت کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
تہران میں نمازِ جنازہ کے بعد تدفین اور تعزیتی تقریبات کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ایران کے مختلف شہروں میں بھی دعائیہ اجتماعات اور تعزیتی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، جہاں بڑی تعداد میں شہری اپنے سابق سپریم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جنازے میں غیر ملکی وفود، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور عسکری قیادت کی شرکت خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تقریبات نہ صرف ایران کے داخلی سیاسی منظرنامے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ سیاسی صورتحال پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ایران میں قیادت کی منتقلی، سکیورٹی صورتحال اور علاقائی سفارت کاری پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ تعزیتی تقریبات میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت ایران کے اندر ان کی سیاسی اور مذہبی حیثیت کی عکاسی کرتی ہے۔
READ MORE FAQS
- علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کہاں ادا کی گئی؟
علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ادا کی گئی، جہاں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ - نمازِ جنازہ میں علی خامنہ ای کے کون سے بیٹے شریک ہوئے؟
نمازِ جنازہ میں ان کے تین بیٹے مسعود خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مصطفیٰ خامنہ ای شریک ہوئے۔ - مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں کیوں شریک نہیں ہوئے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی خدشات کے باعث عوامی تقریب میں شریک نہیں ہوئے، تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔ - نمازِ جنازہ میں کن اہم شخصیات نے شرکت کی؟
نمازِ جنازہ میں ایرانی حکومتی و مذہبی شخصیات، پاسدارانِ انقلاب کے قائم مقام سربراہ بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی، غیر ملکی وفود اور لاکھوں شہری شریک ہوئے۔








