وزیراعظم کا بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب: بلوچستان میں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، تمام وسائل بروئے کار لائیں گے
کوئٹہ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے فتنے کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوری قوم افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
کوئٹہ میں بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 54 دہشتگردوں کو ہلاک کیا، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعظم کا بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کہا کہ دشمن عناصر پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ریاست دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد تنظیموں کو بیرونی سرپرستی، مالی معاونت اور اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض عناصر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں بیرونی حمایت یافتہ عناصر ملوث ہیں، تاہم سیاسی اور عسکری قیادت ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر یکسو ہے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔
وزیراعظم کا بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کہا کہ گزشتہ برس معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی دشمن کو ہضم نہیں ہو رہی، جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کامیابیاں بھی مخالف قوتوں کو پریشان کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور بلوچستان سمیت پورے ملک میں امن و استحکام ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا احد چیمہ، عطا اللہ تارڑ اور مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ کے ہمراہ کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہیں بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور سیکیورٹی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کا امن پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور قومی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ وفاقی حکومت ریاست کی رٹ مضبوط بنانے، دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
وزیراعظم کا بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے بعد پاکستان ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔
"پچھلے چار دنوں میں دہشت گردی کے سنگین واقعات کے نتیجے میں پولیس کے جوان، فوجی بھائی اور شہری شہید ہوئے۔ 54 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، یہ جنگ ان شاء اللہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پاکستان میں آخری فسادی دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فتنے میں… pic.twitter.com/mqrwcmpSI8
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) July 9, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: وزیراعظم شہباز شریف نے اپیکس کمیٹی اجلاس میں کیا کہا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔
سوال 2: اجلاس کہاں منعقد ہوا؟
جواب: یہ اجلاس کوئٹہ میں بلوچستان اپیکس کمیٹی کے تحت منعقد ہوا۔
سوال 3: اجلاس میں کون کون شریک تھا؟
جواب: وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا اور اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔
سوال 4: حکومت کا دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کیا ہے؟
جواب: حکومت نے واضح کیا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کے خاتمے تک زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔






