ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ مون سون آؤٹ لک، سیلاب کا خدشہ

ہندوکش قراقرم ہمالیہ مون سون آؤٹ لک
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

محکمہ موسمیات کا مون سون آؤٹ لک جاری، شمالی علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ

ہندوکش قراقرم ہمالیہ مون سون آؤٹ لک جاری کرتے ہوئے محکمہ موسمیات نے شمالی پاکستان اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں ممکنہ موسمی خطرات سے متعلق اہم پیش گوئی جاری کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق رواں مون سون سیزن کے دوران بارشوں کی مجموعی مقدار معمول کے قریب رہنے کا امکان ہے، تاہم درجہ حرارت میں اضافے اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں مون سون کے دوران معمول کے مطابق بارشیں متوقع ہیں۔ اگرچہ بارشوں کی مجموعی مقدار غیر معمولی نہیں ہوگی، لیکن بعض مقامات پر شدید بارشوں کے مختصر دورانیے خطرناک صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی پاکستان دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات تیزی سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں ہزاروں گلیشیئرز موجود ہیں جو خطے کے آبی وسائل کا اہم ذریعہ ہیں۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث ان گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

محکمہ موسمیات نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ رواں سیزن کے دوران ان پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ اس اضافی گرمی کے باعث برف اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا خدشہ بڑھ جائے گا، جس کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب شدید بارشیں اور گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل ایک ساتھ وقوع پذیر ہوتے ہیں تو اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں پہاڑی علاقوں کے نشیبی مقامات، دریا کنارے آباد بستیاں اور رابطہ سڑکیں زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات نے لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔ شدید بارشوں کے باعث پہاڑی ڈھلوانوں پر مٹی نرم ہو جاتی ہے جس سے چٹانیں اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے کئی پہاڑی اضلاع میں ماضی میں بھی مون سون کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں کی بندش اور آمدورفت میں مشکلات پیدا ہوتی رہی ہیں۔

رپورٹ میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرے کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے سے بننے والی جھیلوں میں پانی کی مقدار بڑھنے کے بعد بعض اوقات ان کے قدرتی بند ٹوٹ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں اچانک اور شدید سیلابی ریلے نیچے کی آبادیوں کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اس عمل کو گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کا واقعہ (GLOF) کہا جاتا ہے۔

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات نسبتاً زیادہ پائے جاتے ہیں۔ بالخصوص گلگت بلتستان اور شمالی خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع اس حوالے سے حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث مستقبل میں ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو بھی صورتحال پر قریبی نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں، آفات سے نمٹنے والے محکموں اور مقامی حکومتوں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھنے چاہئیں۔

دریاؤں، ندی نالوں اور حساس مقامات کے قریب رہنے والی آبادی کو محتاط رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ شدید بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

جدید موسمی پیش گوئی کے نظام اور بروقت وارننگز کے ذریعے جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے عوامی آگاہی اور احتیاطی تدابیر انتہائی اہم ہیں۔ شمالی علاقوں میں سیاحت کے لیے آنے والے افراد کو بھی موسم کی تازہ صورتحال معلوم کر کے سفر کی منصوبہ بندی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

مون سون سیزن پاکستان کی زراعت اور آبی ذخائر کے لیے اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ قدرتی آفات کے خطرات بھی موجود رہتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی تازہ پیش گوئی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں قدرتی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاری اور احتیاط ناگزیر ہو چکی ہے۔

READ MORE FAQS
  1. ہندوکش قراقرم ہمالیہ مون سون آؤٹ لک کیا ہے؟

یہ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کی گئی موسمی پیش گوئی ہے جس میں شمالی پہاڑی علاقوں کی بارشوں اور ممکنہ خطرات کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

  1. کن علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے؟

گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا میں معمول کے مطابق بارشیں متوقع ہیں۔

  1. سیلاب کا خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟

زیادہ درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور بارشوں کے امتزاج سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

  1. لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ کن علاقوں میں ہے؟

پہاڑی اور حساس علاقوں میں شدید بارشوں کے دوران لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ موجود ہے۔