ایران اور امریکا میں 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز، سفارتی کوششیں تیز
تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ثالث ممالک نے 10 روزہ جنگ بندی (سیزفائر) کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس تجویز کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری تصادم کو روکنا اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے عبوری معاہدے کی بحالی کا راستہ ہموار کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ثالث ممالک نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز دی ہے، جس پر ایرانی حکام غور کر رہے ہیں۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا اور مزید فوجی کشیدگی سے بچنا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز عبوری معاہدے کی بحالی کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ثالثی کرنے والے ممالک مسلسل سفارتی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور دونوں فریق کسی قابلِ قبول حل تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ کشیدگی کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ امریکا کی جانب سے مختلف پیغامات ثالث ممالک کے ذریعے ایران تک پہنچائے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیک ڈور ڈپلومیسی اب بھی فعال ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو اس کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی افواج نے خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو ایران بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ میں کمی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی مستقل معاہدے کے لیے دونوں ممالک کو اہم سفارتی اور سیاسی اختلافات پر پیش رفت کرنا ہوگی۔
عالمی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں ثالث ممالک کا کردار انتہائی اہم ہو چکا ہے، کیونکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی منڈی، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ آئندہ چند روز اس حوالے سے نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں کہ آیا دونوں ممالک جنگ بندی کی اس تجویز کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
Mediators propose 10-day ceasefire to revive Iran-U.S. interim deal, senior Iranian official tells Reuters https://t.co/j1W0UZ7Ft3 https://t.co/j1W0UZ7Ft3
— Reuters (@Reuters) July 20, 2026
READ MORE FAQS”
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی تجویز کس نے دی؟
ثالث ممالک نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔
اس جنگ بندی کا مقصد کیا ہے؟
اس کا مقصد عبوری معاہدے کی بحالی، سفارتی مذاکرات کی بحالی اور تصادم کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
کیا ایران نے اس تجویز کو قبول کر لیا ہے؟
ایرانی حکام کے مطابق تجویز پر غور جاری ہے اور حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے جاری ہیں؟
جی ہاں، ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ثالث ممالک کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی پیغامات کا تبادلہ






