سکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنہ الخوارج کی مبینہ سہولت کاری میں ملوث مفتی ظفریاب گرفتار
مفتی ظفریاب گرفتار ہونے کی اطلاع سکیورٹی ذرائع نے دی ہے، جن کے مطابق انہیں فتنہ الخوارج کی مبینہ سہولت کاری کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار شخص نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اس نے درسِ نظامی کی آٹھ سالہ تعلیم جامع نظام العلوم، یتیم خانہ بنوں سے حاصل کی، جبکہ بعد ازاں تخصص فی الفقہ کی تین سالہ تعلیم المرکز الاسلامی غوری والہ سے مکمل کی۔
ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران مفتی ظفریاب نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس کے فتنہ الخوارج کے مبینہ کمانڈر حکمت روشان سے روابط تھے اور اسی بنیاد پر ریاستی اداروں نے اسے گرفتار کیا۔
سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار شخص نے دعویٰ کیا کہ مبینہ کمانڈر حکمت روشان اس سے بھتہ خوری کو مذہبی جواز دینے کے لیے غیر شرعی فتوے حاصل کرتا تھا اور مختلف افراد کو تنظیم میں شمولیت کے بدلے عہدوں اور مالی فوائد کی پیشکش بھی کرتا تھا۔
ذرائع کے مطابق مفتی ظفریاب نے دورانِ تفتیش اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور اس کے بقول یہ گروہ غیر اسلامی نظریات رکھتا ہے اور مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتا ہے۔
سکیورٹی اداروں کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ اس معاملے میں عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہی الزامات کے بارے میں حتمی فیصلہ ہوگا۔
READ MORE FAQS
مفتی ظفریاب کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا؟
سکیورٹی ذرائع کے مطابق انہیں فتنہ الخوارج کی مبینہ سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش کیا انکشافات ہوئے؟
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر فتنہ الخوارج کے ایک کمانڈر سے روابط اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
کیا عدالت نے ان الزامات کی تصدیق کر دی ہے؟
نہیں، خبر کے مطابق معاملہ تفتیشی مرحلے میں ہے اور الزامات پر عدالتی فیصلہ آنا باقی ہے۔
کیا ملزم نے کوئی بیان دیا؟
سکیورٹی ذرائع کے مطابق انہوں نے دورانِ تفتیش اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کیا اور فتنہ الخوارج سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔








