پمز میں 10 فیصد مریضوں سے فیس وصولی، وزیر صحت کا نوٹس

پمز اسپتال میں 10 فیصد مریضوں سے فیس وصولی پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا نوٹس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پمز میں 10 فیصد مریضوں سے علاج کے پیسے لینے پر وزیر صحت کا نوٹس

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں 10 فیصد مریضوں سے علاج اور ٹیسٹوں کے اخراجات وصول کیے جانے کا نوٹس لے لیا۔

وفاقی وزیر صحت نے پمز اسپتال کے نیو ایمرجنسی و ٹراما سنٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے مریضوں سے رقم وصول کیے جانے کے معاملے پر تفصیلات طلب کیں۔

10 فیصد مریضوں سے رقم کیوں لی جا رہی ہے؟ وزیر صحت

دورانِ دورہ سید مصطفیٰ کمال نے اسپتال حکام سے سوال کیا کہ سرکاری اسپتال آنے والے 10 فیصد مریضوں سے علاج اور ٹیسٹوں کی فیس کیوں وصول کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے حکام کو ہدایت کی کہ 10 فیصد مریضوں سے وصول کی جانے والی رقم کی مجموعی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس رقم کے معاملے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھائیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر یہ اخراجات بھی حکومت کی جانب سے برداشت کیے جا سکیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر حکومت 90 فیصد مریضوں کے اخراجات برداشت کر رہی ہے تو باقی 10 فیصد مریضوں سے رقم وصول کرنے کی وجہ اور اس کے مالی حجم سے بھی آگاہ کیا جائے۔

’مجھے مجموعی رقم بتائی جائے‘

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ جب سرکاری اسپتال آنے والے چند مریضوں سے علاج کے لیے رقم طلب کی جاتی ہے تو اس سے پورے نظام پر منفی اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے حکام سے کہا کہ 10 فیصد مریضوں سے وصول ہونے والی مجموعی رقم کی تفصیلات سامنے لائی جائیں تاکہ وہ متعلقہ منصوبہ بندی کے حکام یا وزیراعظم سے اس رقم کے لیے بات کرسکیں۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اگر یہ رقم حکومت کے لیے قابل برداشت ہے تو اسے بھی سرکاری سطح پر پورا کیا جائے، تاکہ مریضوں کو علاج کے دوران اضافی مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پمز کی نئی ایمرجنسی اور ٹراما سنٹر پر بھی بریفنگ

دورے کے دوران وفاقی وزیر صحت کو پمز اسپتال کے نیو ایمرجنسی و ٹراما سنٹر سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر کے مطابق 166 بستروں پر مشتمل نیا ایمرجنسی و ٹراما سنٹر آئندہ 10 روز میں تیار کرلیا جائے گا۔

نئے مرکز کی تکمیل سے پمز میں ایمرجنسی اور ٹراما کی سہولیات میں مزید بہتری آنے کی توقع ہے۔ تاہم مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ نئی سہولت کے فعال ہونے کے بعد بھی فی الحال پرانی ایمرجنسیز اپنا کام جاری رکھیں گی۔

مریضوں کو سہولت فراہم کرنے پر زور

وفاقی وزیر صحت کے دورے کے دوران مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور سرکاری اخراجات سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئے۔

مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اسپتال میں آنے والے مریضوں کے علاج کے حوالے سے واضح اور مؤثر نظام ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر حکومت زیادہ تر مریضوں کے اخراجات برداشت کر رہی ہے تو باقی مریضوں سے وصول کی جانے والی رقم کا بھی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے اسپتال حکام سے کہا کہ مطلوبہ مالی تفصیلات جلد فراہم کی جائیں تاکہ معاملے کو متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا جاسکے۔

166 بستروں کا نیا مرکز کب تیار ہوگا؟

پمز میں زیر تعمیر نیو ایمرجنسی و ٹراما سنٹر کے حوالے سے وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ 166 بیڈز پر مشتمل یہ مرکز 10 روز کے اندر تیار کرلیا جائے گا۔

نئے ایمرجنسی و ٹراما سنٹر کے ساتھ پرانی ایمرجنسی سہولیات بھی فی الحال فعال رہیں گی، جس کا مقصد مریضوں کو طبی خدمات کی فراہمی میں تعطل سے بچانا ہے۔

READ MORE FAQS

سوال: پمز اسپتال میں کتنے فیصد مریضوں سے رقم وصول کی جا رہی ہے؟
جواب: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے مطابق پمز میں 10 فیصد مریضوں سے علاج اور ٹیسٹوں کے اخراجات لیے جا رہے ہیں۔

سوال: پمز میں مریضوں سے فیس وصولی کا نوٹس کس نے لیا؟
جواب: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔

سوال: وزیر صحت نے پمز حکام سے کیا تفصیلات طلب کی ہیں؟
جواب: انہوں نے 10 فیصد مریضوں سے وصول کی جانے والی رقم کی مجموعی تفصیلات طلب کی ہیں۔

سوال: مصطفیٰ کمال رقم کی تفصیلات کیوں چاہتے ہیں؟
جواب: ان کا کہنا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر وزیراعظم سے بات کرکے اس رقم کو بھی حکومت سے برداشت کرانے کی کوشش کریں گے

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:21 AM
طلوع آفتاب05:46 AM
ظہر12:06 PM
عصر03:40 PM
مغرب06:25 PM
عشاء07:50 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6