پمز آتشزدگی: 8 افسران معطل، فوجداری کارروائی کا حکم

پمز آتشزدگی واقعہ، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلیٰ سطحی اجلاس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پمز آتشزدگی واقعہ: وزیراعظم کا 8 ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم

پمز آتشزدگی کے اندوہناک واقعے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس میں ہسپتال کے نیونیٹل وارڈ میں حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی نظام، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور انتظامی امور سے متعلق اہم خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور دیگر ارکان نے عبوری رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں واقعے کی تقریباً دو منٹ پر محیط سی سی ٹی وی ویڈیو بھی دکھائی گئی، جبکہ ابتدائی تحقیقات کے اہم نکات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق واقعے کے ابتدائی جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ پمز میں آتشزدگی یا کسی بھی بڑی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے جامع اور تفصیلی ایس او پیز اور مناسب تربیتی نظام موجود نہیں تھا۔ ہسپتال کے مجموعی طور پر 13 ایس او پیز کا جائزہ لیا گیا، تاہم ان میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر موجود تھا۔

نیونیٹل وارڈ میں فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پمز کے نیونیٹل وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا۔ مزید برآں، تحقیقاتی کمیٹی نے وارڈ میں عالمی ادارۂ صحت کے متعلقہ حفاظتی قواعد کی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی۔

رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی باقاعدہ افسر تعینات نہیں تھا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جسے تحقیقاتی کمیٹی نے انتظامی کمزوری قرار دیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔

صرف دو منٹ میں پورا وارڈ متاثر

تحقیقاتی بریفنگ کے مطابق آگ لگنے کے بعد صورتحال انتہائی تیزی سے سنگین ہوئی اور تقریباً دو منٹ کے مختصر عرصے میں پورا وارڈ آگ کی لپیٹ میں آگیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ آگ لگنے کے تقریباً چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی، جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس واقعے کے تقریباً 15 منٹ بعد پہنچا۔

اس دوران ایک نرس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچانے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے نرس کی بہادری اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے اسے ستارۂ خدمت دینے کی منظوری دے دی۔

جولائی میں بھی آتشزدگی کا واقعہ

تحقیقاتی کمیٹی کی بریفنگ میں یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں تقریباً ایک ماہ قبل جولائی میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اس واقعے کے بعد ہسپتال میں حفاظتی اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے مطلوبہ سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

اجلاس میں ہسپتال کی مجموعی خستہ حالی، انتظامی کمزوریوں اور بدانتظامی پر بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔

8 افراد کے خلاف کارروائی کا حکم

وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کیے گئے آٹھ افراد کو فوری طور پر معطل کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی۔

رپورٹ کے مطابق معطل کیے جانے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔

وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ ذمہ داران کے خلاف صرف محکمانہ کارروائی تک محدود نہ رہا جائے بلکہ قانون کے مطابق فوجداری کارروائی بھی کی جائے۔

وزیراعظم نے سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے متعلقہ عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی۔

پمز کے نئے ایکٹنگ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ہدایت

‫وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)، کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی۔‬

وزیراعظم نے ان تمام عہدوں پر بھی فوری اور یکمشت نئے افسران کی تعیناتی کی ہدایت کی جن پر تعینات افراد کو کارروائی کے نتیجے میں عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔

مزید تحقیقات کے لیے وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو بھی او ایس ڈی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

عبوری رپورٹ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ رپورٹ وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔

وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تحقیقات مکمل کرنے اور مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں اور واقعے کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت ایک انتہائی اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے۔ وزیراعظم نے متاثرہ بچوں کے والدین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کو مثالی سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ مستقبل میں کسی بھی غفلت کے باعث کسی ماں سے اس کا لخت جگر جدا نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:12 AM
طلوع آفتاب05:39 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:47 PM
مغرب06:38 PM
عشاء08:05 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6