مشعال ملک کا پمز ہسپتال کے اندر جانے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج
مشعال ملک پمز ہسپتال پہنچیں جہاں انہیں اور ان کی بیٹی کو وارڈ کے اندر جانے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کرنا پڑا۔ مشعال ملک نے ہسپتال انتظامیہ کے اقدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سانحہ پمز میں ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
مشعال ملک اپنی بیٹی کے ہمراہ پمز ہسپتال پہنچیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے انہیں اندر جانے سے روک دیا گیا۔ اس صورتحال پر انہوں نے ہسپتال کے باہر احتجاج کیا اور میڈیا سے گفتگو میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
مشعال ملک کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کی بیٹی کو وارڈ کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہسپتال کے اندر جانے سے روکنا افسوسناک ہے۔
انہوں نے سانحہ پمز میں جاں بحق ہونے والے بچوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 14 معصوم جانوں کے ضیاع پر پورا پاکستان غمزدہ ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے نے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور ذمہ داری کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کردیئے ہیں۔
مشعال ملک نے گفتگو کے دوران اپنے خاندان کے ایک پرانے تجربے کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کو 2005 میں پمز ہسپتال میں مبینہ طور پر غلط دوا دی گئی تھی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سانحہ پیش آیا تو اس وقت متعلقہ افراد اور ڈاکٹرز کہاں تھے۔ مشعال ملک نے واقعے کو انسانی غفلت قرار دیتے ہوئے حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
مشعال ملک نے مطالبہ کیا کہ سانحہ پمز کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور واقعے میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے وزیر صحت سے بھی فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں ذمہ داروں کا تعین اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔
پمز ہسپتال میں پیش آنے والے سانحے کے بعد واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے مختلف سطحوں پر اقدامات جاری ہیں۔ واقعے نے ہسپتال میں ایمرجنسی انتظامات، فائر سیفٹی اور عملے کی تیاری سے متعلق سوالات کو بھی نمایاں کیا ہے۔
مشعال ملک کے احتجاج کے دوران ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے داخلے کی اجازت نہ دیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا، جس پر انہوں نے میڈیا کے ذریعے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
سانحہ پمز کے بعد شہریوں اور مختلف حلقوں کی جانب سے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات بہتر بنانے، ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے اور غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مشعال ملک نے بھی اپنے بیان میں اسی معاملے پر حکومت سے مؤثر اقدامات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔
READ MORE FAQS
سوال: مشعال ملک پمز ہسپتال کیوں گئی تھیں؟
جواب: مشعال ملک اپنی بیٹی کے ہمراہ پمز ہسپتال پہنچیں، تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان کے دورے کی مخصوص وجہ واضح نہیں کی گئی۔
سوال: پمز انتظامیہ نے مشعال ملک کے ساتھ کیا کیا؟
جواب: مشعال ملک کے مطابق انہیں اور ان کی بیٹی کو وارڈ کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سوال: مشعال ملک نے پمز سانحے کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: انہوں نے سانحہ پمز میں 14 معصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی غفلت قرار دیا۔
سوال: مشعال ملک نے کس کا استعفیٰ مانگا؟
جواب: انہوں نے وزیر صحت سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔








