کول ٹرین حادثہ: ابتدائی رپورٹ میں اسٹیشن ماسٹر ذمہ دار قرار

کول ٹرین حادثہ، پٹڑی سے اترنے والی مال بردار ٹرین
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کول ٹرین حادثے کی ابتدائی انکوائری میں اسٹیشن ماسٹر ذمہ دار قرار

کول ٹرین حادثہ کے حوالے سے ریلوے کی ابتدائی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں ڈیوٹی پر موجود اسٹیشن ماسٹر کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ ریلوے حکام نے واقعے کی مزید تفصیلی تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔

یوسف والا کے قریب کراچی سے ساہیوال کول پاور پلانٹ جانے والی کوئلے سے بھری مال بردار ٹرین حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ حادثے کے نتیجے میں ٹرین کا انجن اور 30 سے زائد ویگنز پٹڑی سے اتر گئے تھے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے ریلوے حکام کی جانب سے پانچ رکنی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد اپنی ابتدائی رپورٹ مرتب کی، جس میں حادثے کے ممکنہ اسباب اور ڈیوٹی پر موجود عملے کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسٹیشن ماسٹر امیر علی نے ٹرین کو روانگی کے لیے سگنل دینے سے قبل پوائنٹس کی پوزیشن کی مناسب جانچ نہیں کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حادثے کے وقت پوائنٹس لوپ لائن کے لیے سیٹ تھے۔

رپورٹ کے مطابق دیگر عملے نے اسٹیشن ماسٹر کو سگنل کی صورتحال سے آگاہ کیا، جس کے بعد ٹرین کے ڈرائیور کو رفتار کم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ تاہم دستیاب وقت کم ہونے کے باعث ٹرین سینڈ ہمپ سے ٹکرا گئی اور اس کے نتیجے میں انجن اور متعدد ویگنز پٹڑی سے اتر گئیں۔

حادثے میں ڈی بی انجن نمبر 9042 کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ اس کے علاوہ ریلوے ٹریک اور مین لائن بھی متاثر ہوئی، جس کے باعث ریلوے کے متعلقہ شعبوں نے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کردیا ہے۔

ریلوے کی پانچ رکنی مشترکہ کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں اسٹیشن ماسٹر کی مبینہ غفلت کو حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ریلوے انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں تاکہ حادثے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔

ریلوے حکام کے مطابق حادثے کے نتیجے میں متاثر ہونے والے انجن، ویگنز، ٹریک اور مین لائن کے نقصانات کا الگ الگ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ متعلقہ محکمے بحالی اور نقصانات کے تخمینے کے حوالے سے اپنی رپورٹس مرتب کر رہے ہیں۔

کول ٹرین کا یہ حادثہ ریلوے کے آپریشنل نظام، سگنلنگ اور پوائنٹس کی درست پوزیشن کی جانچ کی اہمیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ٹرینوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اسٹیشن عملے کی جانب سے مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ابتدائی انکوائری میں ذمہ داری عائد کیے جانے کے بعد حتمی تحقیقات میں یہ دیکھا جائے گا کہ حادثے میں کسی دوسرے انتظامی یا تکنیکی عنصر کا کردار بھی تھا یا نہیں۔

ریلوے انتظامیہ کی جانب سے مزید تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حادثے کی مکمل وجوہات اور ذمہ داران سے متعلق حتمی صورتحال سامنے آنے کی توقع ہے۔

READ MORE FAQS

سوال: کول ٹرین حادثہ کہاں پیش آیا؟
جواب: فراہم کردہ معلومات کے مطابق حادثہ یوسف والا کے قریب پیش آیا۔

سوال: کول ٹرین کہاں جارہی تھی؟
جواب: کوئلے سے بھری ٹرین کراچی سے ساہیوال کول پاور پلانٹ جارہی تھی۔

سوال: حادثے میں کتنی بوگیاں پٹڑی سے اتریں؟
جواب: ابتدائی رپورٹ کے مطابق 30 سے زائد ویگنز پٹڑی سے اتر گئیں۔

سوال: ابتدائی انکوائری میں کس کو ذمہ دار قرار دیا گیا؟
جواب: ریلوے کی مشترکہ ابتدائی انکوائری رپورٹ میں ڈیوٹی پر موجود اسٹیشن ماسٹر امیر علی کو مبینہ غفلت کے باعث ذمہ دار قرار دیا گیا۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:11 AM
طلوع آفتاب05:39 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:47 PM
مغرب06:40 PM
عشاء08:07 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6