ژاؤ شِن تونگ کی شاندار کامیابی، سنوکر کی عالمی نمبر ایک پوزیشن پر قبضہ
ووہان: چین کے سنوکر اسٹار ژاؤ شِن تونگ نے ووہان اوپن کے کوارٹر فائنل میں آسٹریلوی کھلاڑی نیل رابرٹسن کو 5-1 سے شکست دے کر نہ صرف ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی بلکہ سنوکر کی نئی عالمی نمبر ایک پوزیشن بھی حاصل کر لی۔
29 سالہ ژاؤ شِن تونگ سنوکر کی تاریخ میں 13ویں عالمی نمبر ایک کھلاڑی بن جائیں گے اور یہ اعزاز حاصل کرنے والے چین کے دوسرے کھلاڑی ہوں گے۔ ان سے قبل چین کے ڈنگ جن ہوئی نے دسمبر 2014 سے فروری 2015 کے دوران مختصر عرصے کے لیے عالمی نمبر ایک پوزیشن حاصل کی تھی۔
جوڈ ٹرمپ کی دو سالہ حکمرانی ختم
ژاؤ شِن تونگ کے عالمی نمبر ایک بننے کے ساتھ ہی انگلینڈ کے جوڈ ٹرمپ کی تقریباً دو سالہ حکمرانی بھی ختم ہوگئی۔

ٹرمپ کو کوارٹر فائنل میں چین ہی کے چانگ بِنگ یو نے 5-1 سے شکست دی، جس کے نتیجے میں عالمی رینکنگ میں بڑی تبدیلی کی راہ ہموار ہوئی۔
ژاؤ نے عالمی نمبر ایک بننے کو اپنے بچپن کے خوابوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال انہیں اس کامیابی کو مکمل طور پر محسوس کرنے کا موقع نہیں ملا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس اعزاز کی اہمیت مزید محسوس ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی نمبر ایک بننا ایک پروفیشنل کھلاڑی کے لیے انتہائی نایاب اور خصوصی اعزاز ہے۔
رابرٹسن کے خلاف ژاؤ کی شاندار کارکردگی
نیل رابرٹسن کے خلاف میچ میں ژاؤ شِن تونگ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 106، 91، 113 اور 54 رنز کے بریکس کھیلے اور مقابلہ 5-1 سے اپنے نام کیا۔
ژاؤ اب سیمی فائنل میں اپنے ہم وطن شیاو گو ڈونگ کا سامنا کریں گے، جنہوں نے انگلینڈ کے تجربہ کار کھلاڑی مارک ولیمز کو 5-3 سے شکست دی۔
ژاؤ کی نظریں اب ووہان اوپن کا مسلسل تیسری مرتبہ ٹائٹل جیتنے پر مرکوز ہیں۔
او سلیوان بھی سیمی فائنل میں پہنچ گئے
دوسری جانب سات مرتبہ کے عالمی چیمپئن رونی او سلیوان نے بھی سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔

او سلیوان نے ہم وطن مارک سیلبی کو 5-3 سے شکست دی۔ انہوں نے میچ کے آغاز میں دو فریمز ہارنے کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے اگلے چھ میں سے پانچ فریمز جیت لیے۔
50 سالہ او سلیوان نے مقابلے کے دوران 87، 96، 72 اور 129 کے شاندار بریکس کھیلے جبکہ ساتویں فریم میں 147 کی کوشش کے دوران 80 کا بریک بھی بنایا۔
او سلیوان کا چانگ بِنگ یو کی تعریف
سیمی فائنل میں او سلیوان کا مقابلہ 24 سالہ چینی کھلاڑی چانگ بِنگ یو سے ہوگا۔
او سلیوان نے نوجوان چینی کھلاڑی کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ژاؤ شِن تونگ اور وو یزے کے ساتھ چانگ بھی اعلیٰ معیار کا کھلاڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چانگ رواں سیزن میں شاندار کھیل پیش کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ووہان اوپن کا ٹائٹل بھی جیت جائیں۔
ووہان اوپن کے سیمی فائنلز میں ژاؤ شِن تونگ بمقابلہ شیاو گو ڈونگ اور رونی او سلیوان بمقابلہ چانگ بِنگ یو کے مقابلے شائقین کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔
Zhao Xintong breaks open a 40-minute long frame by potting a 'fiendishly difficult' yellow#WuhanOpen pic.twitter.com/FilkfRaL00
— WST (@WeAreWST) August 27, 2026
READ MORE FAQS”
ژاؤ شِن تونگ عالمی نمبر ایک کیسے بنے؟
ژاؤ شِن تونگ نے ووہان اوپن کے کوارٹر فائنل میں نیل رابرٹسن کو 5-1 سے شکست دی، جس کے بعد وہ عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر پہنچ گئے۔
ژاؤ شِن تونگ نے نیل رابرٹسن کو کتنے اسکور سے شکست دی؟
ژاؤ شِن تونگ نے نیل رابرٹسن کو 5-1 سے شکست دی۔
ژاؤ شِن تونگ سے پہلے چین کا کون سا کھلاڑی عالمی نمبر ایک بنا تھا؟
ڈنگ جن ہوئی چین کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے سنوکر میں عالمی نمبر ایک پوزیشن حاصل کی تھی۔
ژاؤ شِن تونگ کا ووہان اوپن کے سیمی فائنل میں کس سے مقابلہ ہوگا؟
سیمی فائنل میں ژاؤ شِن تونگ کا مقابلہ اپنے ہم وطن شیاو گو ڈونگ سے ہوگا۔






