پاکستان کا ایران کو واضح پیغام، حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں سے روکنے کا مطالبہ

پاکستان کا ایران کو حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے متعلق انتباہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان کا ایران کو واضح پیغام، حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں سے روکنے کا مطالبہ، اسلام آباد نہیں چاہتا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کریں

اسلام آباد (9 ستمبر 2026): سعودی عرب پر یمنی حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد پاکستان نے ایران تک سعودی عرب کا اہم پیغام پہنچاتے ہوئے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حوثی اتحادیوں کو سعودی سرزمین پر حملے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کو واضح پیغام پہنچایا، جس میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کو روکنے کے لیے ایران سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے، 73 افراد زخمی

رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے منگل کو سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں متعدد اہداف پر حملے کیے، جن میں خمیس مشیط میں ایک ایئربیس جبکہ ابہا، جازان اور نجران کے علاقوں میں توانائی کی تنصیبات بھی شامل تھیں۔

سعودی حکام کے مطابق حملوں کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے، جبکہ متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور کچھ توانائی تنصیبات پر آپریشنز عارضی طور پر متاثر ہوئے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان
برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف سخت اقدام

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات اور خمیس مشیط کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

سعودی قیادت نے حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے حوثیوں کے خلاف مناسب کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

پاکستان نے ایران کو کیا پیغام دیا؟

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر علاقائی سفارت کار نے بتایا کہ پاکستان نے ایران سے کہا ہے کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف حملے رکوانے میں کردار ادا کرے۔

رپورٹ میں ایک ایرانی سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ تہران کو پاکستان کی جانب سے یہ پیغام موصول ہوا، تاہم ایرانی مؤقف تھا کہ ایران حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ دعوے ایرانی ذرائع سے منسوب ہیں اور آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا دفاعی معاہدہ

پاکستان کا ایران کو پیغام اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر سعودی عرب پر حملے مزید پھیلتے ہیں تو پاکستان کا ممکنہ فوجی کردار سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود ہوگا۔

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کہا ہے کہ اگر کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو اسے تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا اور سعودی عرب پر غیر اشتعال انگیز جارحیت یا اس کے اثرات پہنچنے کی صورت میں دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔

پاکستانی فورسز یمن میں داخل نہیں ہوں گی

روس اور شمالی کوریا کے درمیان نئے سڑک پل کا افتتاح
روس اور شمالی کوریا کے درمیان دریائے تومین پر پہلے سڑک پل کا افتتاح کردیا گیا۔

رائٹرز نے ایک پاکستانی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب میں حکام نے اعلیٰ سطح کے پاکستانی اور ترک فوجی نمائندوں سے ملاقات کی، جس میں ممکنہ ردعمل کو مربوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی فوجیں یمن میں داخل نہیں ہوں گی اور اگر کوئی جوابی کارروائی کی ضرورت پیش آئی تو وہ سعودی سرزمین سے کی جائے گی۔

ایک دوسرے پاکستانی ذریعے کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا فوجی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور غیر ملکی سرزمین پر جنگی کارروائیوں میں شرکت اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر پاکستانی فورسز سعودی عرب کے اندر فوجی، تکنیکی، زمینی یا فضائی معاونت فراہم کر سکتی ہیں، تاہم یمن میں براہِ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر حملے

حوثی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف صوبوں میں 54 فضائی حملے کیے۔

حوثیوں نے ان حملوں کے جواب میں مزید کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔ دوسری جانب سعودی قیادت کی جانب سے حوثیوں کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دیا گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی قیادت نے حالیہ حوثی حملوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کے خلاف ضروری عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

پاکستان فوجی کارروائی سے پہلے سفارتی حل کا خواہاں

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ہائیڈرو پاور ٹنل سے 9 روز بعد دو افراد کو زندہ نکالنے کا ریسکیو آپریشن
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ترشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو افراد کو 9 روز بعد زندہ نکال لیا گیا۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان فی الحال سفارتی راستے سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسلام آباد نہیں چاہتا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کریں۔

ایک علاقائی سفارت کار نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے باوجود صورتحال کو اس مقام تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں اسے عملی طور پر سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی کردار ادا کرنا پڑے۔

یہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک حساس سفارتی توازن کی بھی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ اسلام آباد کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات ہیں جبکہ ایران پاکستان کا اہم ہمسایہ ملک ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے عالمی اثرات

سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ سعودی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق تازہ کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر بڑھی ہیں اور برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب کی توانائی تنصیبات اور بحیرہ احمر کے راستوں پر حملے مزید بڑھے تو عالمی تیل کی ترسیل، شپنگ اور توانائی کی قیمتوں پر اس کے مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے ایران کو حوثیوں کو روکنے کا پیغام اسی وسیع تر علاقائی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے دفاعی شراکت دار کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو دیکھ رہا ہے جبکہ دوسری طرف خطے میں مزید جنگ پھیلنے سے بچنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 
READ MORE FAQS”

پاکستان نے ایران کو کیا پیغام دیا؟

پاکستان نے ایران پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے روکنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں کتنے افراد زخمی ہوئے؟

رائٹرز کے مطابق حالیہ حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے۔

کیا پاکستان یمن میں فوج بھیجے گا؟

رائٹرز کے مطابق پاکستانی ذرائع نے کہا ہے کہ فی الحال یمن میں براہِ راست فوجی کارروائی میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کس نوعیت کا ہے؟

ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کا فوجی تعاون دفاعی نوعیت کا ہے اور ممکنہ پاکستانی فوجی کردار سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود رہے گا۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:22 AM
طلوع آفتاب05:47 AM
ظہر12:05 PM
عصر03:39 PM
مغرب06:24 PM
عشاء07:49 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6