ٹرمپ سعودی سول جوہری معاہدہ: معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط قرار

ٹرمپ سعودی سول جوہری معاہدہ اور معاہدہ ابراہیمی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرمپ نے سعودی عرب کے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کر دیا

ٹرمپ سعودی سول جوہری معاہدہ ایک بار پھر عالمی سفارتی اور تزویراتی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا سول جوہری معاہدہ صرف اسی صورت آگے بڑھے گا جب سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں شامل ہونے پر آمادہ ہوگا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاہدہ مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہوگا اور اس میں سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایسے سول جوہری پروگراموں کی حمایت کرتا ہے جو صرف توانائی اور سائنسی ترقی کے لیے استعمال ہوں اور جن سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خدشہ نہ ہو۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے ممکنہ معاہدے کی ایک بنیادی شرط اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والے معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت ہوگی۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور علاقائی تعاون کو فروغ ملے گا۔

دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدہ تقریباً 30 سال کی مدت پر مشتمل ہو سکتا ہے اور اس کی مجموعی مالیت کئی ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو جدید جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی ملنے کی توقع ہے، تاہم یورینیم افزودگی کے معاملے پر سخت شرائط برقرار رہیں گی۔

اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے پورے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائیبرمین نے معاہدے کو اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی بنیاد کسی نہ کسی سول جوہری پروگرام سے ہی پڑتی ہے، لہٰذا ایسے کسی بھی معاہدے پر انتہائی احتیاط سے غور کیا جانا چاہیے۔

دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق امریکا، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان مستقبل کے تعلقات، مشرق وسطیٰ کی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور خطے کے تزویراتی توازن پر اس معاہدے کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

معاہدہ ابراہیمی 2020 میں امریکا کی سرپرستی میں شروع ہونے والا سفارتی فریم ورک ہے، جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو اس معاہدے کی سب سے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، تاہم ریاض نے تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں امریکا، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی سفارتی پیش رفت اس مجوزہ معاہدے کی سمت کا تعین کرے گی۔

READ MORE FAQS
  1. ٹرمپ نے سعودی عرب کے جوہری معاہدے کے لیے کیا شرط رکھی؟

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا ہوگا۔

  1. کیا سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت ہوگی؟

ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

  1. معاہدہ ابراہیمی کیا ہے؟

یہ 2020 میں شروع ہونے والا سفارتی معاہدوں کا سلسلہ ہے جس کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانا ہے۔

  1. اسرائیل اس معاہدے پر کیوں تشویش کا اظہار کر رہا ہے؟

اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں جوہری ٹیکنالوجی خطے میں اسلحے کی دوڑ کا باعث بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں