ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کی چار وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں، تعاون بڑھانے پر اتفاق

ایس سی او اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار کی چار وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کی چار وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں، تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قازقستان، بیلاروس، ازبکستان اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی روابط اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار کی چار وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، ٹیکنالوجی اور ٹرانسپورٹ رابطوں کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

اسحاق ڈار اور قازقستان کے وزیر خارجہ کی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان 37 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر مؤثر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور ان منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

جنرل عامر رضا کی ترقی بطور فور اسٹار جنرل
وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کر دیا۔

بیلاروس کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں 2025 سے 2027 تک کے جامع تعاون کے روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ دونوں ممالک نے صنعتی، تجارتی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ازبکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی روابط بہتر بنانے اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

دوسری جانب تاجکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن، سیکیورٹی اور باہمی اقتصادی تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار کی چار وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتوں کے دوران چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ علاقائی تعاون ہی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کو علاقائی تعاون، اقتصادی انضمام، تجارت، رابطوں اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے اور رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کرغزستان کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں ایس سی او کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس کے بعد چین، ازبکستان، ایران اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ خوشگوار اور بے تکلف گفتگو ہوئی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسے غیر رسمی تبادلۂ خیال علاقائی تعاون، اعتماد سازی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، باہمی احترام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

مبصرین کے مطابق ایس سی او اجلاس کے موقع پر ہونے والی یہ غیر رسمی ملاقاتیں رکن ممالک کے درمیان اعتماد سازی، سفارتی روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا پلیٹ فارم علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، تجارت، توانائی، رابطوں اور انسداد دہشت گردی سمیت متعدد شعبوں میں رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان بھی تنظیم کے فعال رکن کے طور پر علاقائی روابط اور مشترکہ ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل سفارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایس سی او اجلاس کے موقع پر ہونے والی اسحاق ڈار کی چار وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔

مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: اسحاق ڈار نے ایس سی او اجلاس میں کن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی؟
جواب: اسحاق ڈار نے قازقستان، بیلاروس، ازبکستان اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

سوال 2: ملاقاتوں میں کن امور پر بات چیت ہوئی؟
جواب: ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، ٹیکنالوجی، علاقائی روابط اور امن و استحکام سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سوال 3: قازقستان کے ساتھ کیا پیش رفت ہوئی؟
جواب: دونوں ممالک نے 37 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر مؤثر عملدرآمد کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

سوال 4: بیلاروس اور ازبکستان کے ساتھ کیا فیصلے ہوئے؟
جواب: بیلاروس کے ساتھ 2025 تا 2027 جامع تعاون کے روڈ میپ پر عملدرآمد جبکہ ازبکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

سوال 5: دیگر ممالک نے پاکستان کے کردار کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کیا؟
جواب: قازقستان، بیلاروس، ازبکستان اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں