ٹرمپ کا امریکی افواج کو ایران پر ایک روز کیلئے حملے روکنے کا حکم، ایران عمان مذاکرات میں پیشرفت
ٹرمپ ایران حملے کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی افواج کو ہدایت جاری کی ہے کہ ایران کے خلاف ایک روز تک کسی نئی فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے تاکہ جاری سفارتی کوششوں کو مزید وقت اور موقع مل سکے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز امریکی فوج کو ایران پر نئے حملے نہ کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد تقریباً دو ہفتوں سے جاری روزانہ فوجی کارروائیوں کا سلسلہ عارضی طور پر رک گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ دوبارہ فوجی کارروائی کی منظوری دیتے ہیں تو امریکی افواج مختصر نوٹس پر فوری آپریشن شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق عمان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تہران پہنچا، جہاں ایرانی حکام کے ساتھ کئی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور عمان و ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام تک کسی مفاہمتی معاہدے یا انتظام پر اتفاق رائے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل بھی معمول پر آنے کی امید پیدا ہوگی۔
READ MORE FAQS
- ٹرمپ نے ایران پر حملے کیوں روکے؟
سفارتی کوششوں کو مزید موقع دینے اور مذاکرات کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک روز کیلئے حملے روکے گئے۔
- کیا امریکا نے فوجی کارروائیاں مکمل طور پر ختم کردی ہیں؟
نہیں، رپورٹس کے مطابق یہ صرف عارضی وقفہ ہے اور ضرورت پڑنے پر کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔
- عمان کا کردار کیا ہے؟
عمان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں۔
- آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
یہ دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔








