ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ امریکا کے حملے رکنے کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں۔
ایران امریکا حملے کے معاملے پر ایرانی فوج نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے حملے روکنے کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی فوجی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد ایران نے بھی عسکری ردعمل روک دیا ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے، جس پر انہوں نے کہا کہ امریکا اس وقت اسٹریٹیجک فیصلہ سازی میں تھکن کا شکار ہے اور اس کے پاس واضح حکمت عملی موجود نہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ صورتحال امریکی صدر کے فیصلوں اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی سرگرمیوں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
ایرانی فوجی حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ 14 سے 15 روز کے دوران ایران کی کارروائیوں کا بنیادی ہدف امریکی ریڈار تنصیبات اور وہ مراکز تھے جو فوجی معاونت فراہم کر رہے تھے، تاکہ مزید حملوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
جنرل اکرامینیا کے مطابق ایران نے اس عرصے میں کوشش کی کہ امریکا دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عملدرآمد کو آگے بڑھایا جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں یہ رپورٹس شائع ہوئی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف مزید وسیع فوجی کارروائیوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔ بعض رپورٹس میں دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی کو بھی اس فیصلے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ان کے مطابق واشنگٹن نہ تو آبنائے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں لے سکا اور نہ ہی ایران کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس وقت نئی حکمت عملی تلاش کر رہا ہے، جبکہ ان کے بقول اگر امریکا جنگ سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا انحصار اسرائیل کی منظوری پر بھی ہو سکتا ہے۔
READ MORE FAQS
- ایرانی فوج نے کیا اعلان کیا؟
ایرانی فوج کے مطابق امریکا کے حملے رکنے کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔
- ایران نے اپنی کارروائیوں کا مقصد کیا بتایا؟
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد امریکا کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔
- ایرانی فوج نے امریکی حکمت عملی کے بارے میں کیا کہا؟
ترجمان کے مطابق امریکا اس وقت واضح اسٹریٹیجک حکمت عملی سے محروم ہے اور فیصلہ سازی میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
- امریکی میڈیا میں کیا دعویٰ کیا گیا؟
رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔








