مغربی کنارے میں اسرائیلی حملے: آبادکاروں نے 2 مساجد کو نذر آتش کر دیا

مغربی کنارے میں اسرائیلی حملے، مسجد کو آگ سے نقصان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

مغربی کنارے میں اسرائیلی حملے جاری، نابلس اور طولکرم میں 2 مساجد کو آگ لگا دی گئی

مغربی کنارے میں اسرائیلی حملے ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق حالیہ واقعے میں نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ قصرہ اور طولکرم کے قریب گاؤں کور میں دو مساجد کو آگ لگا دی گئی، جس سے عبادت گاہوں کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ پہلا واقعہ نابلس کے جنوبی علاقے قصرہ میں پیش آیا، جہاں زیرِ تعمیر مسجد کو آگ لگا دی گئی۔ مقامی حکام کے مطابق آگ کے باعث مسجد کے داخلی حصے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ عمارت کی بعض پتھریلی دیواریں بھی متاثر ہوئیں۔

آزاد کشمیر بحران پر عطا اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ آزاد کشمیر بحران اور مبینہ بھارتی پروپیگنڈا سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے۔

قصرہ کے میئر عبدالعظیم وادی کے مطابق واقعے کے بعد مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی لکھے گئے، جن میں انتقام سے متعلق الفاظ شامل تھے۔ مقامی انتظامیہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اسی رات ایک اور واقعہ طولکرم کے قریب گاؤں کور میں پیش آیا۔ فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کے مطابق وہاں بھی ایک مسجد کو آگ لگائی گئی اور اس کی دیواروں پر نسل پرستانہ نوعیت کے نعرے تحریر کیے گئے۔ وزارت نے اس واقعے کو مذہبی مقامات پر حملہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے توجہ دینے کی اپیل کی۔

مغربی کنارہ کئی برسوں سے کشیدگی، سکیورٹی کارروائیوں اور آبادکاروں سے متعلق واقعات کا مرکز رہا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد مقامی آبادی میں تشویش بڑھ جاتی ہے اور مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق سوالات دوبارہ سامنے آتے ہیں۔

عالمی سطح پر مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے بارہا اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ مذہبی مقامات کا احترام کیا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ایسے واقعات کے بعد غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے مطالبات بھی سامنے آتے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ مساجد میں آگ بجھانے کے بعد نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ متعلقہ ادارے واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ نقصان کی مکمل نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی حکام اکثر ایسے واقعات پر مختلف مؤقف اختیار کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی پیش رفت یا سرکاری ردعمل کی صورت میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق مذہبی مقامات پر حملوں کے دعوے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔ اسی لیے شفاف تحقیقات، حقائق کی تصدیق اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال مسلسل بدلتی رہتی ہے، اس لیے اس خبر سے متعلق آئندہ سرکاری بیانات، تحقیقات یا ردعمل سامنے آنے کی صورت میں معلومات میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں