صدر مملکت اور وزیراعظم کا کیپٹن محمد سرور شہید کو 78ویں یومِ شہادت پر شاندار خراجِ عقیدت
کیپٹن محمد سرور شہید کے 78ویں یومِ شہادت کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے پہلے نشانِ حیدر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی بے مثال جرات، شجاعت اور حب الوطنی کو سلام پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ پوری قوم وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے کیپٹن محمد سرور شہید کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کشمیر کی پہلی جنگ کے دوران 27 جولائی 1948 کو کیپٹن محمد سرور شہید نے دشمن کا انتہائی بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور اپنی جان وطن پر نچھاور کر دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ کیپٹن محمد سرور شہید پاکستان کے پہلے فوجی تھے جنہیں مادرِ وطن کے دفاع میں بے مثال قربانی کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین عسکری اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ انہوں نے فرض شناسی، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر معمولی بہادری کی ایسی مثال قائم کی جو آج بھی پاک فوج اور پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیپٹن محمد سرور شہید جیسے بہادر سپوت پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی علامت ہیں اور ان کی لازوال قربانی آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ رہے گی۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی اپنے پیغام میں کیپٹن محمد سرور شہید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آزادیٔ کشمیر کے لیے اپنی جان قربان کر کے فرض شناسی، حب الوطنی اور شجاعت کی ایسی مثال قائم کی جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے پہلے نشانِ حیدر حاصل کرنے والے کیپٹن محمد سرور شہید نے قومی تاریخ میں سنہری باب رقم کیا، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت پاکستان آج ایک مضبوط، خودمختار اور محفوظ ریاست کے طور پر قائم ہے، جبکہ پوری قوم اپنے شہداء اور غازیوں کو ہمیشہ عزت، احترام اور محبت کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔
READ MORE FAQS
- کیپٹن محمد سرور شہید کون تھے؟
کیپٹن محمد سرور شہید پاکستان آرمی کے پہلے فوجی تھے جنہیں بہادری کے اعلیٰ ترین عسکری اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
- کیپٹن محمد سرور شہید کب شہید ہوئے؟
وہ 27 جولائی 1948 کو آزادیٔ کشمیر کی پہلی جنگ کے دوران وطن کے دفاع میں شہید ہوئے۔
- انہیں نشانِ حیدر کیوں دیا گیا؟
دشمن کے خلاف غیر معمولی جرات، قیادت اور بے مثال قربانی کے اعتراف میں انہیں پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا گیا۔
- صدر اور وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کیا کہا؟
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی قوم کے لیے باعثِ فخر اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔








