وفاقی وزراء کا این ڈی ایم اے کا دورہ، مون سون بارشوں سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل قرار

این ڈی ایم اے مون سون تیاریاں، وفاقی وزراء اجلاس میں شریک
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

این ڈی ایم اے کا دورہ: مون سون سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل، وفاقی وزراء کا اطمینان

این ڈی ایم اے مون سون تیاریاں پاکستان میں رواں سال متوقع شدید بارشوں اور ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ وفاقی وزراء نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انہیں مون سون سیزن کے لیے کیے گئے پیشگی اقدامات، ارلی وارننگ سسٹم، ریسکیو تیاریوں اور مختلف اداروں کے درمیان مربوط تعاون کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ اس سال مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث شمالی اور مشرقی پاکستان کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈ، شہری سیلاب (اربن فلڈنگ)، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے جیسے خطرات موجود ہیں۔ ان خدشات کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان قریبی رابطہ قائم کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی 2022 اور 2025 کے شدید سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے، جن سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث قدرتی آفات کی شدت اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے حکومت نے مون سون سیزن شروع ہونے سے قبل ہی حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ایمرجنسی رسپانس کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق بروقت فیصلوں، اداروں کے درمیان رابطے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ بہت کم ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، آبی ذخائر میں اضافہ کرنے اور زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ضلعی اداروں کو مزید مضبوط اور بااختیار بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات زرعی شعبے پر نمایاں طور پر مرتب ہو رہے ہیں، اس لیے جدید زرعی تحقیق، بہتر بیجوں اور موسمی حالات کے مطابق کاشتکاری کے طریقوں پر کام کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج ہے اور پاکستان عالمی سطح پر اس مسئلے پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہاڑی، میدانی اور شہری علاقوں کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے تاکہ ہر خطے کے مخصوص خطرات کے مطابق مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

چیئرمین واپڈا معین وٹو نے اس موقع پر کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر آبی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے مستقبل میں سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے، توانائی پیدا کرنے اور پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے آبی ذخائر کی استعداد میں اضافے کو قومی ترجیح قرار دیا۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ عوامی آگاہی میں اضافہ بھی حکومتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے جدید ارلی وارننگ سسٹم کے ذریعے عوام تک بروقت معلومات پہنچانے کا مؤثر نظام قائم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون سے اس نظام کو مزید بہتر بنایا گیا ہے، جس سے گزشتہ برس قدرتی آفات کے دوران نقصانات میں نمایاں کمی آئی۔ ان کے مطابق این ڈی ایم اے کا ارلی وارننگ ماڈل عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مون سون کے دوران سرکاری ہدایات، موسمی الرٹس اور حفاظتی تدابیر پر عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بروقت تیاری، مؤثر رابطہ کاری اور عوامی تعاون کے ذریعے مون سون سیزن کے ممکنہ خطرات سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔

READ MORE FAQS
  1. وفاقی وزراء نے این ڈی ایم اے کا دورہ کیوں کیا؟

مون سون بارشوں اور ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے پیشگی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے۔

  1. این ڈی ایم اے نے کیا پیشگوئی کی ہے؟

رواں سال غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے، جبکہ شمالی اور مشرقی پاکستان زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

  1. حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟

ارلی وارننگ سسٹم کو بہتر بنایا گیا، ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی گئی اور ریسکیو اداروں کی تیاری مکمل کی گئی۔

  1. کن خطرات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے؟

فلیش فلڈ، اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیئر پگھلنے اور شدید بارشوں کے باعث سیلاب کا۔

متعلقہ خبریں