مریم نواز کا بارش کے پانی کو محفوظ بنانے پر زور، 800 نئے منی ڈیمز کی منظوری

پنجاب واٹر مینجمنٹ پلان کے تحت مریم نواز کی زیر صدارت پانی کے ذخیرے سے متعلق اجلاس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب واٹر مینجمنٹ پلان: مریم نواز نے بارش کے پانی کے ذخیرے کیلئے نیا منصوبہ طلب

پنجاب واٹر مینجمنٹ پلان کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات پر زور دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے آن گراؤنڈ واٹر باڈیز کا جامع پلان طلب کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر اور واٹر مینجمنٹ سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پانی کے تحفظ، زیرزمین پانی کی مینجمنٹ اور زرعی شعبے میں جدید اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پنجاب میں پانی کی بچت اور گراؤنڈ واٹر مینجمنٹ پر تیار کردہ رپورٹ پیش کی گئی، جس پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پانی ہر معاشرے کی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے اور ایک ذمہ دار قوم وہی ہوتی ہے جو پانی کے ایک ایک قطرے کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

وزیراعلیٰ نے پوٹھوہار ریجن میں بارانی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے آئندہ تین برسوں میں 800 نئے منی ڈیمز تعمیر کرنے کی منظوری دی۔ حکام کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل سے تقریباً 32 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی اضافی صلاحیت پیدا ہوگی، جس سے زرعی سرگرمیوں، آبپاشی اور زیرزمین پانی کی سطح بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اجلاس کے دوران زیرزمین پانی کے مؤثر استعمال کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ اس کے ساتھ واٹر کنزرویشن، مانیٹرنگ اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ہیومن ریسورس (HR) اسٹاف تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ پانی کے وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، ہاؤسنگ اور لوکل گورنمنٹ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پانی کا تحفظ صرف ایک ادارے کی نہیں بلکہ تمام متعلقہ محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اجلاس میں زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ رواں مالی سال کے دوران کسانوں کو 50 فیصد سبسڈی پر 1,000 نئے لیزر لینڈ لیولرز فراہم کیے جائیں گے، جس سے پانی کے ضیاع میں نمایاں کمی اور زرعی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔

اجلاس میں کھاد کی دستیابی اور فراہمی کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ اٹک، تلہ گنگ، گوجر خان اور راولپنڈی میں حال ہی میں مکمل ہونے والے منی ڈیمز کے تصویری شواہد بھی پیش کیے گئے۔ شرکاء کو ان منصوبوں کی افادیت اور مستقبل میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

ماہرین کے مطابق بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، چھوٹے ڈیمز کی تعمیر، جدید آبپاشی نظام اور لیزر لینڈ لیولنگ جیسے اقدامات مستقبل میں پانی کے بحران سے نمٹنے، زرعی پیداوار بڑھانے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

READ MORE FAQS
  1. پنجاب واٹر مینجمنٹ پلان کیا ہے؟

یہ پنجاب حکومت کا منصوبہ ہے جس کا مقصد بارش کے پانی کو محفوظ بنانا، زیرزمین پانی کا بہتر انتظام اور زرعی شعبے میں پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا ہے۔

  1. کتنے نئے منی ڈیمز بنانے کی منظوری دی گئی؟

وزیراعلیٰ مریم نواز نے پوٹھوہار ریجن میں 800 نئے منی ڈیمز تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔

  1. ان منی ڈیمز سے کتنی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی؟

تقریباً 32 ہزار ایکڑ فٹ اضافی پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔

  1. کسانوں کے لیے کیا اعلان کیا گیا؟

رواں مالی سال میں 50 فیصد سبسڈی پر 1,000 نئے لیزر لینڈ لیولرز فراہم کیے جائیں گے۔