امریکی وفد: ٹرمپ کے پاکستانی قیادت سے بہترین تعلقات کے مثبت اثرات، وزیراعظم سے ملاقات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
ٹرمپ پاکستانی قیادت تعلقات ایک مرتبہ پھر پاک امریکا سفارتی روابط میں نمایاں موضوع بن گئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات کے دوران امریکی اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی قیادت کے درمیان مثبت روابط دونوں ممالک کے تعلقات پر خوشگوار اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں امریکی کانگریس کے وفد، جس میں ریان زنکے اور نمائندہ مائیکل بومگارٹنر شامل تھے، نے وزیراعظم شہباز شریف سے مختلف دوطرفہ اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وفد نے پاکستان کے خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی وفد کے مطابق پاکستان کی تعمیری سفارت کاری عالمی امن کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی کانگریس کے ارکان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں جنہیں مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا اور پاک بھارت کشیدگی کے دوران جنگ بندی کی کوششوں میں امریکی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری ہمیشہ تنازعات کے حل کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔
ملاقات کے دوران تجارت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہا ہے اور امریکی کمپنیوں کے لیے مختلف شعبوں میں مواقع موجود ہیں۔
امریکی وفد نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ پاکستان کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے، خاص طور پر آئی ٹی، جدید ٹیکنالوجی، زرعی ترقی اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔
ملاقات میں علاقائی امن، انسداد دہشت گردی، عالمی صورتحال اور مستقبل کے سفارتی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسلسل رابطے اور اعلیٰ سطح کے دورے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان مثبت سفارتی روابط نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ ملاقات کو مستقبل کے تعاون کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت اقتصادی اصلاحات، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داری کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے، جبکہ امریکا بھی جنوبی ایشیا میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیتا ہے۔ ایسے میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
READ MORE FAQS
- امریکی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں کیا کہا؟
وفد نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور پاکستانی قیادت کے درمیان مثبت تعلقات دونوں ممالک کے روابط پر خوشگوار اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
- ملاقات میں کن شعبوں پر بات ہوئی؟
تجارت، زراعت، آئی ٹی، توانائی، سرمایہ کاری، علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر گفتگو کی گئی۔
- امریکی وفد میں کون شامل تھا؟
وفد میں امریکی کانگریس کے ارکان ریان زنکے اور نمائندہ مائیکل بومگارٹنر شامل تھے۔
- وزیراعظم شہباز شریف نے کیا مؤقف اختیار کیا؟
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔








