افغانستان میں پھنسے 135 پاکستانی میڈیکل طلبہ وطن واپس پہنچ گئے
لوئر دیر: افغانستان میں گزشتہ تقریباً نو ماہ سے پھنسے ہوئے 135 پاکستانی میڈیکل طلبہ منگل کے روز بحفاظت وطن واپس پہنچ گئے۔ واپس آنے والے طلبہ کی اکثریت کا تعلق خیبرپختونخوا کے اضلاع اپر دیر اور لوئر دیر سے ہے۔
تیمرگرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغانستان میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کے نمائندوں ادریس خان اور فیاض یوسفزئی نے بتایا کہ مختلف افغان جامعات میں زیرِ تعلیم طلبہ طورخم بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے اور بعد ازاں اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں پھنسے 135 پاکستانی میڈیکل طلبہ کی واپسی جلال آباد میں پاکستان کے قونصل جنرل شفقات اللہ اور افغانستان کی وزارت داخلہ کی خصوصی کوششوں سے ممکن ہوئی، جنہوں نے ضروری سفری اجازت ناموں کے اجرا میں اہم کردار ادا کیا۔
افغانستان میں پھنسے 135 پاکستانی میڈیکل طلبہ کے نمائندوں کے مطابق اس سے قبل بھی 11 جولائی 2026 کو 68 پاکستانی طلبہ کو طورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان واپس لایا گیا تھا، جس میں جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے اور افغان حکام نے بھرپور تعاون فراہم کیا تھا۔
ادریس خان اور فیاض یوسفزئی نے پاکستانی قونصل جنرل، جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے، افغان وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مشترکہ کاوشوں کے باعث طلبہ کی محفوظ اور منظم انداز میں وطن واپسی ممکن ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے پاکستان اور افغانستان کے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی عکاسی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ کو بروقت سہولت فراہم کی گئی۔
افغانستان میں پھنسے 135 پاکستانی میڈیکل طلبہ کے نمائندوں کے مطابق اس وقت بھی ایک ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ افغانستان کے مختلف میڈیکل کالجوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جو تعطیلات کے باعث پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں۔
۱۳۵ پاکستاني زده کړیالان چې د افغانستان په بېلابېلو پوهنتونونو کې یې روغتیایي زدهکړې کولې، له نهو میاشتو ځنډ وروسته د تورخم له لارې پاکستان ته ستانه شول. pic.twitter.com/pP9gGe0F9P
— Attaullah khogyani (@Attaullahkhogya) July 29, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: کتنے پاکستانی میڈیکل طلبہ افغانستان سے وطن واپس آئے؟
جواب: مجموعی طور پر 135 پاکستانی میڈیکل طلبہ افغانستان سے طورخم بارڈر کے ذریعے بحفاظت پاکستان واپس پہنچے۔
سوال 2: طلبہ کی واپسی کیسے ممکن ہوئی؟
جواب: طلبہ کی واپسی جلال آباد میں پاکستانی قونصل جنرل، پاکستانی قونصل خانے اور افغانستان کی وزارت داخلہ کے تعاون سے ممکن ہوئی، جنہوں نے ضروری سفری اجازت نامے جاری کیے۔
سوال 3: واپس آنے والے طلبہ کا تعلق کن علاقوں سے تھا؟
جواب: زیادہ تر طلبہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے اضلاع اپر دیر اور لوئر دیر سے تھا۔
سوال 4: کیا اس سے پہلے بھی طلبہ وطن واپس آئے تھے؟
جواب: جی ہاں، 11 جولائی 2026 کو بھی 68 پاکستانی طلبہ کو طورخم بارڈر کے ذریعے وطن واپس لایا گیا تھا۔
سوال 5: افغانستان میں اب بھی کتنے پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں؟
جواب: طلبہ کے نمائندوں کے مطابق ایک ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ افغانستان کے مختلف میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم ہیں اور تعطیلات کے باعث وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔






