ملک میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی بڑی کامیابی
40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری قومی مہم کا اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی سے متعلق پریس بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر میں اب تک 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائیاں ملک کے مختلف حصوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کا بنیادی مقصد دہشت گرد عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ان کے نیٹ ورک کو ختم کرنا تھا۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سکیورٹی فورسز مسلسل مربوط انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف خصوصی توجہ دی گئی، جہاں اب تک 31 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن مکمل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود کرنے، حساس مقامات کے تحفظ اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز روایتی فوجی کارروائیوں سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ان میں پہلے مستند معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں، اس کے بعد مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی سے شہری آبادی کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔
پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع ہو تو فوری طور پر متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے باوجود فورسز اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ان اہلکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران متعدد دہشت گرد گرفتار یا ہلاک کیے گئے جبکہ بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ ان کارروائیوں سے دہشت گرد تنظیموں کی صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ، مربوط منصوبہ بندی اور مختلف اداروں کے درمیان تعاون کی بدولت انسداد دہشت گردی آپریشنز کی کامیابی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز دہشت گردی کے خلاف جدید حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں کیونکہ ان میں مخصوص معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے، جس سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور عام شہریوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم رکھا جا سکے۔
READ MORE FAQS
- ڈی جی آئی ایس پی آر نے کتنے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا ذکر کیا؟
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں۔
- بلوچستان میں کتنے آپریشن کیے گئے؟
بلوچستان میں اب تک 31 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن مکمل کیے گئے ہیں۔
- انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ہوتا ہے؟
یہ ایسی کارروائی ہوتی ہے جو خفیہ معلومات کی بنیاد پر مخصوص دہشت گردوں یا ان کے نیٹ ورکس کے خلاف کی جاتی ہے۔
- ان کارروائیوں کا مقصد کیا ہے؟
دہشت گردی کا خاتمہ، شہریوں کا تحفظ اور ملک میں امن و استحکام برقرار رکھنا۔








