ایف-15 طیارہ گرنے کے بعد امریکی اہلکار کی 50 گھنٹے کی خوفناک جدوجہد، ایران سے مشکل ریسکیو

ایران میں مار گرائے گئے امریکی ایف-15 طیارے کے اہلکار کا مشکل ریسکیو آپریشن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایف-15 طیارہ گرنے کے بعد امریکی اہلکار کی 50 گھنٹے کی خوفناک جدوجہد، ایران سے مشکل ریسکیو

تہران: جنوبی ایران میں جنگ کے دوران امریکی ایف-15 ای جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد ایک امریکی فضائیہ کے اہلکار نے شدید زخمی حالت میں تقریباً 50 گھنٹے ایرانی پہاڑی علاقے میں چھپ کر گزارے، جس کے بعد امریکی فورسز نے ایک انتہائی پیچیدہ آپریشن کے ذریعے انہیں ایران سے بحفاظت نکال لیا۔

امریکی اہلکار، جن کا اصل نام سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا گیا، کو امریکی میڈیا میں ’’براوو‘‘ کے نام سے مخاطب کیا گیا ہے۔ انہوں نے واقعے کے تقریباً پانچ ماہ بعد امریکی نشریاتی ادارے CBS News کے پروگرام ’’60 Minutes‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے طیارہ گرنے، پیراشوٹ ناکام ہونے، شدید زخمی ہونے اور ایرانی فورسز سے بچتے ہوئے پہاڑوں میں گزارے گئے وقت کی تفصیلات بیان کیں۔

’اوپر دیکھا تو کوئی پیراشوٹ نہیں تھا‘

براوو کے مطابق ایف-15 ای طیارے کو میزائل لگنے کے بعد عملے نے آخری وقت تک طیارے کو بچانے کی کوشش کی، تاہم ایک مرحلے پر واضح ہوگیا کہ مزید پرواز جاری رکھنا ممکن نہیں۔

اس کے بعد دونوں اہلکاروں نے ایجیکٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ براوو نے بتایا کہ جب انہوں نے اوپر دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ ان کا پیراشوٹ درست طریقے سے نہیں کھلا۔

ان کے مطابق:

’’میں نے ایک لمحے کے لیے اوپر دیکھا اور محسوس کیا کہ کوئی پیراشوٹ نہیں تھا۔ یہ میری زندگی کا سب سے خوفناک منظر تھا۔‘‘

شمالی کوریا میزائل تجربے کے بعد جنوبی کوریا میں ہائی الرٹ
شمالی کوریا کے متعدد شارٹ رینج بیلسٹک میزائل تجربوں کے بعد جنوبی کوریا میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ تیزی سے زمین کی طرف گر رہے تھے اور اسی دوران انہوں نے الجھے ہوئے پیراشوٹ کے حصوں کو کھولنے اور الگ کرنے کی کوشش کی۔

زمین سے ٹکرانے کے بعد شدید زخمی

امریکی فوجی ماہرین کے مطابق براوو کے زمین سے ٹکرانے کی رفتار تقریباً 70 سے 100 میل فی گھنٹہ یعنی 113 سے 161 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوسکتی تھی۔

شدید گرنے کے نتیجے میں ان کی کمر، کندھے اور بازو میں فریکچر ہوئے، ٹخنہ بھی زخمی ہوا جبکہ سر اور چہرے پر گہرے زخم آئے اور خون بہتا رہا۔

اس کے باوجود براوو نے لینڈنگ کے مقام پر رکنے کے بجائے وہاں سے دور جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں ایرانی فورسز کے ہاتھ لگنے کا خدشہ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ فوجی تربیت کے مطابق انہیں بدلتے حالات کے ساتھ خود کو ڈھالنے اور مشکلات پر قابو پانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، اسی لیے شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ ممکنہ حد تک تیزی سے وہاں سے دور ہوگئے۔

دونوں امریکی اہلکار ایک دوسرے سے 8 کلومیٹر دور جا گرے

طیارہ گرنے کے بعد براوو اور دوسرے اہلکار، جنہیں ’’ایلفا‘‘ کے نام سے شناخت کیا گیا، ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔

تیز ہواؤں کے باعث دونوں تقریباً 8 کلومیٹر کے فاصلے پر جا کر اترے۔ ایلفا کو چند گھنٹوں کے اندر امریکی فورسز نے ایک خطرناک آپریشن کے ذریعے تلاش کرکے نکال لیا، جبکہ براوو کا مقام فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔

براوو نے زخمی حالت میں پہاڑی علاقے کی طرف سفر جاری رکھا اور تقریباً 7 ہزار فٹ یعنی 2,100 میٹر سے زیادہ بلند چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی صورت ایرانی ٹیلی ویژن پر قیدی کی حیثیت سے دکھائی نہیں دینا چاہتے تھے۔

آبنائے ہرمز اجلاس ایران اور خلیجی ممالک
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایران اور خلیجی ممالک کا اہم اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

’خدا مہربان ہے‘، زخمی اہلکار کا خفیہ پیغام

رات ہونے پر براوو نے ایک محفوظ مقام تلاش کیا اور خفیہ طور پر امریکی فورسز کو پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوئے۔

پیغام میں انہوں نے لکھا:

’’میں زخمی ہوں، حرکت کر رہا ہوں۔‘‘

ایک دوسرے پیغام میں انہوں نے لکھا:

’’خدا مہربان ہے۔‘‘

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق ان پیغامات سے یہ تصدیق ہوگئی کہ براوو زندہ ہیں اور حرکت کرنے کی حالت میں ہیں۔

امریکی حکام نے اسی رات ریسکیو آپریشن شروع کرنے پر غور کیا، تاہم حالات انتہائی خطرناک ہونے کے باعث آپریشن کو تقریباً 24 گھنٹے مؤخر کردیا گیا۔

اس دوران براوو نے شدید سردی، محدود پانی اور تقریباً بغیر خوراک کے ایک اور دن اور رات گزارے۔

امریکی فورسز نے ایرانی فورسز کو گمراہ کرنے کی کوشش کی

CBS News کے مطابق امریکی خفیہ ادارے CIA نے براوو کی تلاش کے دوران ایرانی فورسز کو گمراہ کرنے کے لیے ایک دھوکے کی کارروائی بھی کی۔

رپورٹ کے مطابق ایسی غلط معلومات پھیلائی گئیں کہ امریکی اہلکار افغانستان کی سرحد، بحیرۂ کیسپین یا جنوبی ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اسی دوران جدید خفیہ ٹیکنالوجی کے ذریعے براوو کے حقیقی مقام کا تعین کیا گیا۔

امریکی بمبار طیاروں اور ڈرونز نے ریسکیو ٹیم کے داخل ہونے سے پہلے علاقے کے قریب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔

برکس ممالک کا مشرق وسطیٰ جنگ پر مشترکہ اعلامیہ
نئی دہلی میں برکس اجلاس، رکن ممالک کا مشرق وسطیٰ میں تحمل اور کشیدگی کم کرنے پر زور۔

CBS کے مطابق تقریباً 50 گھنٹے پر محیط آپریشن میں امریکی افواج نے 339 ہتھیار استعمال کیے۔

150 سے زائد فضائی پلیٹ فارمز ریسکیو آپریشن میں شامل

امریکی حکام کے مطابق براوو کو نکالنے کے بڑے آپریشن میں 150 سے زائد فضائی پلیٹ فارمز شامل تھے۔

اس آپریشن میں 64 فائٹر جیٹس، چار بمبار، 48 فضائی ری فیولنگ ٹینکرز، 13 ریسکیو طیارے اور انٹیلی جنس و الیکٹرانک وارفیئر کے دیگر طیارے شامل تھے۔

امریکی حکام کے مطابق زمینی مرحلے میں تقریباً 92 امریکی فوجی اہلکار موجود تھے، جبکہ سینکڑوں افراد فضائی کارروائیوں اور ہزاروں اہلکار دیگر معاون ذمہ داریوں میں شریک تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق مجموعی مشن میں 155 طیاروں نے حصہ لیا تھا۔

ایف-15 ای کا مشن کیا تھا؟

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق ایف-15 ای کا مشن ایران کے ڈرون اور میزائل پروگرام سے متعلق صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس مخصوص مشن کا اصفہان کی جوہری تنصیبات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق اس وقت تک امریکی افواج ایران کے خلاف جنگ میں ہزاروں فضائی مشنز انجام دے چکی تھیں۔

زرعی زمین میں عارضی رن وے بنا کر ریسکیو آپریشن

براوو کو نکالنے کے لیے پینٹاگون نے متعدد منصوبوں کا جائزہ لیا۔ آخرکار دو خصوصی MC-130 ٹرانسپورٹ طیارے ایک عارضی رن وے کے طور پر استعمال ہونے والی زرعی زمین پر اترے۔

یہ مقام براوو کے چھپنے کی جگہ سے تقریباً 10 میل یعنی 16 کلومیٹر دور تھا۔

چار MH-6 Little Bird ہیلی کاپٹر ان طیاروں کے اندر الگ حصوں میں منتقل کیے گئے تھے۔ امریکی فورسز نے وہاں پہنچ کر تقریباً 15 منٹ میں ہیلی کاپٹروں کو دوبارہ جوڑا۔

الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
الجزائر نے امارات سے سفارتی تعلقات ختم کر دیے

اس کے بعد ریسکیو ٹیم نے پہاڑی علاقے کی طرف پرواز کی، جہاں امریکی فضائیہ کے جنگی ریسکیو اہلکار، جنہیں Para-rescue personnel یا PJs کہا جاتا ہے، براوو تک پہنچے۔

براوو نے ریسکیو ٹیم کی آمد کو اپنی زندگی کے عظیم ترین لمحات میں سے ایک قرار دیا۔

ریسکیو کے بعد بھی مشکلات ختم نہ ہوئیں

براوو کو تلاش کرلینے کے بعد انہیں ایران سے باہر نکالنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔

دونوں MC-130 طیاروں کے پہیے نرم مٹی میں دھنس گئے جس کے باعث وہ فوری طور پر دوبارہ پرواز کے قابل نہیں رہے۔

اس دوران ایران میں موجود 90 سے زائد امریکی فوجیوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنا ضروری تھا۔

پینٹاگون نے متبادل منصوبہ اختیار کیا اور نسبتاً ہلکے ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے اہلکاروں کو علاقے سے باہر نکالا۔

امریکی فورسز نے دونوں MC-130 طیارے اور چار Little Bird ہیلی کاپٹر وہیں چھوڑ دیے۔ بعد میں انہیں بمباری کرکے تباہ کردیا گیا تاکہ ان کی حساس ٹیکنالوجی اور سامان ایرانی فورسز کے ہاتھ نہ لگ سکے۔

تقریباً 50 گھنٹے بعد محفوظ مقام پر پہنچ گئے

بالآخر امریکی جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے تقریباً 50 گھنٹے بعد براوو کو ایرانی سرزمین سے بحفاظت نکال لیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق اس پورے آپریشن میں فضائی، زمینی، انٹیلی جنس اور خصوصی فورسز کی متعدد یونٹس نے حصہ لیا۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک امریکی فوجی اہلکار کی شدید زخمی حالت میں زندہ رہنے کی غیر معمولی داستان بن گیا بلکہ ایرانی سرزمین پر امریکی فوج کے انتہائی پیچیدہ ریسکیو آپریشنز میں بھی شمار کیا جا رہا ہے۔

 
READ MORE FAQS”

ایران میں امریکی ایف-15 طیارے کے ساتھ کیا ہوا؟
امریکی ایف-15 ای طیارہ جنوبی ایران میں جنگ کے دوران میزائل حملے کے بعد گر کر تباہ ہوا۔

امریکی اہلکار براوو کتنے گھنٹے ایران میں رہا؟
براوو نے ریسکیو سے قبل تقریباً 50 گھنٹے ایرانی پہاڑی علاقے میں گزارے۔

براوو کو کتنی چوٹیں آئیں؟
زمین پر گرنے کے نتیجے میں اس کی کمر، کندھے اور بازو میں فریکچر ہوئے جبکہ سر، چہرے اور ٹخنے پر بھی چوٹیں آئیں۔

امریکی اہلکار کو کیسے ریسکیو کیا گیا؟
امریکی فورسز نے خفیہ معلومات، فضائی کارروائی اور خصوصی ریسکیو ٹیموں پر مشتمل ایک پیچیدہ آپریشن کے ذریعے براوو کو ایرانی سرزمین سے نکالا۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:26 AM
طلوع آفتاب05:50 AM
ظہر12:04 PM
عصر03:35 PM
مغرب06:17 PM
عشاء07:41 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6