شمالی کوریا کے متعدد شارٹ رینج میزائل تجربے، جنوبی کوریا میں ہائی الرٹ
شمالی کوریا میزائل تجربے کے بعد جنوبی کوریا میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ شمالی کوریا کی افواج نے مشرقی ساحلی علاقے سے سمندر کی جانب متعدد شارٹ رینج بیلسٹک میزائل فائر کیے، جنہوں نے تقریباً 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل ہفتے کی صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر مشرقی ساحلی شہر وونسان کے قریب سے فائر کیے گئے۔ حکام نے میزائلوں کی لانچنگ کے آغاز ہی سے صورتحال کی نگرانی شروع کردی تھی۔
جنوبی کوریا اور امریکی انٹیلی جنس حکام نے مشترکہ طور پر میزائل لانچنگ کی نگرانی کی جبکہ متعلقہ معلومات جاپان کے ساتھ بھی شیئر کی گئیں۔ حکام کی جانب سے میزائلوں کی نوعیت، پرواز کے انداز اور دیگر تکنیکی تفصیلات کا تجزیہ جاری ہے۔
میزائل تجربوں کے بعد جنوبی کوریا کے صدارتی نیشنل سیکیورٹی آفس نے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں وزارت دفاع، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ہنگامی اجلاس کے دوران میزائل تجربوں کے جنوبی کوریا کی قومی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا جبکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے فوری طور پر بیلسٹک میزائل تجربات روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیئول نے ان تجربات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شمالی کوریا سے کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے پر زور دیا۔
امریکی پیسیفک کمانڈ نے بھی شمالی کوریا کی جانب سے میزائل لانچ کیے جانے کی تصدیق کی۔ امریکی حکام کے مطابق ابتدائی جائزے میں ان میزائل تجربوں سے امریکی اہلکاروں، امریکی علاقے یا اس کے اتحادیوں کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہوا۔
امریکی پیسیفک کمانڈ نے خطے میں صورتحال کی نگرانی جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ میزائل تجربوں کے بعد امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان سکیورٹی تعاون بھی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے یہ میزائل تجربے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان کی مشترکہ فوجی مشقیں ختم ہوئے صرف ایک روز گزرا تھا۔ تینوں ممالک کی فوجی سرگرمیوں پر پیانگ یانگ ماضی میں بھی سخت ردعمل ظاہر کرتا رہا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی شمالی کوریا کی جانب سے 10 سے زائد شارٹ رینج بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے تھے۔ حالیہ تجربات کو بھی خطے میں شمالی کوریا کی مسلسل میزائل سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
شمالی کوریا کا میزائل پروگرام طویل عرصے سے جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان کے لیے سکیورٹی تشویش کا باعث رہا ہے۔ پیانگ یانگ کی جانب سے وقتاً فوقتاً میزائل تجربات کے ذریعے اپنی فوجی صلاحیتوں کا اظہار کیا جاتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ان سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ماہ امریکا اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں میں کمی کرچکے ہیں۔ ٹرمپ ان مشقوں کو شمالی کوریا کے لیے اشتعال انگیز قرار دے چکے ہیں اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے رواں سال ملاقات کی توقع بھی ظاہر کرچکے ہیں۔
حالیہ میزائل تجربوں کے بعد ایک طرف جنوبی کوریا نے اپنی سکیورٹی نگرانی بڑھا دی ہے تو دوسری جانب امریکا اور جاپان کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ خطے میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر میزائلوں کی تکنیکی تفصیلات اور شمالی کوریا کی آئندہ سرگرمیوں پر نظر رکھی جارہی ہے۔
READ MORE FAQS
سوال: شمالی کوریا نے کتنے میزائل فائر کیے؟
جواب: دستیاب معلومات میں متعدد شارٹ رینج بیلسٹک میزائل فائر کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم میزائلوں کی حتمی تعداد اور تکنیکی تفصیلات کا تجزیہ جاری ہے۔
سوال: میزائل کہاں سے فائر کیے گئے؟
جواب: جنوبی کوریا کے مطابق میزائل مشرقی ساحلی علاقے وونسان کے قریب سے فائر کیے گئے۔
سوال: میزائلوں نے کتنا فاصلہ طے کیا؟
جواب: جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائلوں نے تقریباً 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
سوال: جنوبی کوریا نے کیا ردعمل دیا؟
جواب: جنوبی کوریا نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور شمالی کوریا سے بیلسٹک میزائل تجربات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔








