آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایران اور خلیجی ممالک کا اہم اجلاس ملتوی
آبنائے ہرمز اجلاس جو ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آج عمان میں ہونا تھا، ملتوی کردیا گیا ہے۔ عمان نے اجلاس کی نئی تاریخ بعد میں طے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اجلاس آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور مستقبل سے متعلق علاقائی مشاورت کے لیے اہم قرار دیا جارہا تھا۔
عمان کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صلالہ میں ہونے والا علاقائی اجلاس تعمیری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی غرض سے ملتوی کیا گیا ہے۔ عمانی حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس کی نئی تاریخ مناسب وقت پر طے کی جائے گی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے اس اجلاس کی میزبانی عمان میں کیے جانے کی تصدیق کی تھی۔ مجوزہ اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، اس کے مستقبل اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مختلف امور پر تبادلہ خیال متوقع تھا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی اس گزرگاہ کے ذریعے تیل اور گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اسی لیے خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ایران کے مطابق اجلاس میں عراق اور خلیجی ممالک کے نمائندوں کو شریک ہونا تھا۔ تاہم اجلاس سے قبل کسی بھی خلیجی ملک کی جانب سے باضابطہ طور پر شرکت کی تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔
بحرین نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد مجوزہ علاقائی اجلاس میں شرکا کی سطح اور اس کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہوئے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے اجلاس ملتوی ہونے کے باوجود خطے میں مثبت مذاکرات کے لیے اپنے ملک کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی استحکام اور دیرپا تعاون کے لیے مثبت اور تعمیری مذاکرات کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
اجلاس کا مقصد آبنائے ہرمز سے متعلق علاقائی ممالک کے درمیان براہ راست مشاورت کے ذریعے موجودہ صورتحال کو سمجھنا اور مستقبل کے لیے ممکنہ تعاون کے راستوں پر غور کرنا تھا۔ تاہم اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اب اس حوالے سے نئی تاریخ اور شرکا کی حتمی فہرست کا انتظار کیا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس سمندری راستے سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی بڑے سکیورٹی بحران یا آمدورفت میں رکاوٹ کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کی کوششیں خطے میں رابطوں کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔ عمان نے ماضی میں بھی علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں بات چیت کے لیے رابطہ کاری کا کردار ادا کیا ہے۔
فی الحال اجلاس ملتوی ہونے کی وجہ کے طور پر عمان کی جانب سے تعمیری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت کو بیان کیا گیا ہے۔ نئی تاریخ طے ہونے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ اجلاس میں کون سے ممالک شرکت کرتے ہیں اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے کیا امور ایجنڈے کا حصہ بنتے ہیں۔
READ MORE FAQS
سوال: آبنائے ہرمز اجلاس کب ہونا تھا؟
جواب: ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اجلاس آج عمان کے شہر صلالہ میں ہونا تھا، تاہم اسے ملتوی کردیا گیا ہے۔
سوال: اجلاس کیوں ملتوی کیا گیا؟
جواب: عمان کے مطابق اجلاس تعمیری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی غرض سے ملتوی کیا گیا ہے۔
سوال: اجلاس کی نئی تاریخ کب ہوگی؟
جواب: عمان کا کہنا ہے کہ اجلاس کی نئی تاریخ بعد میں طے کی جائے گی۔
سوال: اجلاس میں کون سے ممالک شریک ہونے تھے؟
جواب: ایران کے مطابق اجلاس میں عراق اور خلیجی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کرنا تھی، تاہم کسی خلیجی ملک نے باضابطہ طور پر شرکت کی تصدیق نہیں کی تھی۔








