امریکا کا ویزا بانڈ پروگرام مستقل بنانے کا فیصلہ، متعدد افریقی ممالک کے شہری متاثر ہوں گے، یہ پروگرام ویزا کی شرائط پر عمل درآمد کو بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہوا، اسی لیے اسے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جا رہا ہے
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے بیشتر افریقی ممالک کے شہریوں پر لاگو کیے گئے ویزا بانڈ پروگرام کو مستقل بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت مخصوص ممالک کے درخواست گزاروں کو امریکا کا سیاحتی یا کاروباری ویزا حاصل کرنے سے قبل ہزاروں ڈالر بطور ضمانتی رقم جمع کرانا ہوگی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے 31 جولائی کو فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والے مسودے میں کہا ہے کہ تقریباً ایک سالہ جائزے کے دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ یہ پروگرام ویزا کی شرائط پر عمل درآمد کو بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہوا، اسی لیے اسے مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 4 اگست سے نافذ العمل ہوگا، جبکہ مستقبل میں مزید ممالک کو بھی اس فہرست میں شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بانڈ کی رقم میں بھی اضافہ
نئے ضوابط کے تحت زیادہ سے زیادہ 20 ہزار امریکی ڈالر تک کا ویزا بانڈ وصول کیا جا سکے گا، جبکہ پہلے زیادہ سے زیادہ رقم 15 ہزار ڈالر تھی۔ اس سے قبل 5 ہزار، 10 ہزار اور 15 ہزار ڈالر کی مختلف سطحیں موجود تھیں، تاہم نئی پالیسی میں کم از کم 5 ہزار ڈالر والی حد ختم کر دی گئی ہے۔
یہ بانڈ مخصوص ممالک کے پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو کاروباری (Business) اور سیاحتی (Tourist) ویزا کے انٹرویو سے پہلے جمع کرانا ہوگا۔
بانڈ کب واپس ملے گا؟

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اگر ویزا درخواست مسترد ہو جائے ت وامریکا کا ویزا بانڈ پروگرام کی رقم واپس کر دی جائے گی۔ اسی طرح اگر ویزا جاری ہونے کے بعد درخواست گزار امریکا میں ویزا کی تمام شرائط کی پابندی کرے اور مقررہ مدت پوری ہونے پر واپس چلا جائے تو بھی جمع کرائی گئی رقم واپس کر دی جائے گی۔
پروگرام کیوں متعارف کرایا گیا؟
امریکا کا ویزا بانڈ پروگرام پہلی بار اگست 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے متعارف کرایا تھا، جس کا مقصد ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں غیر قانونی طور پر قیام کرنے والوں کی تعداد کم کرنا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والے افراد کی گرفتاری اور ملک بدری پر اوسطاً 18 ہزار امریکی ڈالر فی شخص خرچ آتا ہے، اسی لیے حکومت نے اس پروگرام کو غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے مؤثر قرار دیا ہے۔
ابتدائی اندازے کے مطابق تقریباً 2 ہزار درخواست گزار اس پالیسی سے متاثر ہونے والے تھے، تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ تقریباً 20 ہزار ویزا درخواست گزار امریکا کا ویزا بانڈ پروگرام کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔
US makes visa bond policy permanent, mostly affecting Africa:
The US has made permanent a visa bond policy requiring some applicants from 50 designated countries, including 30 in Africa, to post refundable bonds of $10,000, $15,000 or $20,000. The policy applies to B-1 visas for… pic.twitter.com/xr69BcHmde
— CGTN Africa (@cgtnafrica) August 3, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: امریکا کا ویزا بانڈ پروگرام کیا ہے؟
جواب: یہ ایک پالیسی ہے جس کے تحت مخصوص ممالک کے شہریوں کو سیاحتی یا کاروباری ویزا حاصل کرنے سے پہلے ضمانتی رقم (ویزا بانڈ) جمع کرانی ہوتی ہے۔
سوال 2: نئی پالیسی کے تحت زیادہ سے زیادہ کتنی رقم جمع کرانی ہوگی؟
جواب: امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق نئی پالیسی کے تحت زیادہ سے زیادہ 20 ہزار امریکی ڈالر تک بطور ویزا بانڈ وصول کیے جا سکتے ہیں۔
سوال 3: کن افراد پر یہ شرط لاگو ہوگی؟
جواب: یہ شرط امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے نامزد مخصوص ممالک، جن میں زیادہ تر افریقی ممالک شامل ہیں، کے کاروباری اور سیاحتی ویزا درخواست گزاروں پر لاگو ہوگی۔
سوال 4: کیا ویزا بانڈ کی رقم واپس مل جاتی ہے؟
جواب: جی ہاں، اگر ویزا درخواست مسترد ہو جائے یا ویزا ہولڈر امریکا میں ویزا کی تمام شرائط پوری کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر واپس چلا جائے تو جمع کرائی گئی بانڈ رقم واپس کر دی جاتی ہے۔






