امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ٹرمپ ایران جوہری ہتھیار کے معاملے پر ایک بار پھر سخت مؤقف سامنے لے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو کسی بھی طریقے، شکل یا صورت میں جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی صدر نے اس معاملے کو اپنی حکومت کا اولین اور بنیادی مقصد قرار دیا۔
ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے اختلافات برقرار ہیں۔ حالیہ سفارتی کوششوں میں بھی پیش رفت محدود رہی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایران کے جوہری ہتھیار کے حصول کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسے کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ٹرمپ کا یہ مؤقف امریکا کی ایران پالیسی میں جوہری پروگرام کو مرکزی ترجیح قرار دینے کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکا ایران کشیدگی برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطوں کی بحالی کی کوششیں بھی جاری رہی ہیں، تاہم مذاکرات میں اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ موجودہ صورتحال نے خطے میں امن و سلامتی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ کیا ہے۔
ٹرمپ کی تازہ وارننگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا واشنگٹن کے لیے اب بھی اہم ترین اہداف میں شامل ہے۔ دوسری جانب ایران طویل عرصے سے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا آیا ہے۔
READ MORE FAQS
- ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کیا وارننگ دی؟
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ - امریکا کی ایران کے حوالے سے بنیادی ترجیح کیا ہے؟
ٹرمپ کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکا کا بنیادی مقصد ہے۔ - ٹرمپ نے یہ بیان کہاں جاری کیا؟
امریکی صدر نے یہ مؤقف اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان کیا۔ - کیا امریکا ایران کے ساتھ سفارتی رابطے کر رہا ہے؟
حالیہ عرصے میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری رہی ہیں، تاہم اہم معاملات پر پیش رفت محدود رہی ہے۔








