امریکہ پر ایران جنگ کا دباؤ: امریکی بحریہ کے یو ایس ایس ابراہم لنکن کے فوجی خاندان پریشان، امریکا کا آخری کیریئر یو ایس ایس جارج واشنگٹن بھی ایشیا سے روانہ
واشنگٹن: ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی بحریہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک جانب طویل عرصے سے سمندر میں موجودیو ایس ایس ابراہم لنکن (USS Abraham Lincoln – CVN 72) امریکی بحریہ کا ایک ایٹمی طاقت سے چلنے والا کے فوجی اہلکاروں کے اہلخانہ نے ذہنی صحت، خوراک، پانی، بنیادی سہولیات اور مسلسل تعیناتی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا نے ایشیا بحرالکاہل میں موجود اپنے آخری طیارہ بردار بحری جہاز USS George Washington کو بھی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کردیا ہے۔
اس پیش رفت نے امریکی بحریہ کی آپریشنل صلاحیت، فوجی اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور بحرالکاہل میں امریکی موجودگی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کے فوجی خاندانوں کے سخت سوالات
سان ڈیاگو میں ہونے والی ایک کشیدہ ملاقات کے دوران تقریباً 200 فوجی اہلکاروں کے اہلخانہ نے قائم مقام امریکی سیکریٹری نیوی ہنگ کاؤ (Hung Cao) اور بحریہ کے دیگر اعلیٰ حکام کے سامنے اپنے تحفظات پیش کیے۔

اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی نے جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار سیلرز اور میرینز پر شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ ڈال دیا ہے۔
کئی خاندانوں نے اپنے پیاروں کی ذہنی صحت، مسلسل تھکن اور غیر یقینی واپسی پر تشویش ظاہر کی۔ بعض اہلخانہ کے مطابق فوجی اپنے بچوں کی پیدائش، خاندانی تقریبات اور قریبی عزیزوں کی آخری رسومات جیسے اہم مواقع سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔
ایک والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو یہ خوف لاحق ہے کہ وہ شاید دوبارہ گھر نہ پہنچ سکے۔ ایسے بیانات کے بعد اجلاس میں موجود خاندانوں نے بحریہ کی قیادت سے واضح جواب اور فوجیوں کی واپسی کا شیڈول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
259 دن کی تعیناتی، 208 دن مسلسل سمندر میں
رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن نے نومبر 2025 میں سان ڈیاگو سے اپنا سفر شروع کیا تھا اور ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے باعث اس کی تعیناتی مقررہ مدت سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔
رپورٹ کے مطابق جہاز نے مجموعی طور پر 259 دن کی تعیناتی مکمل کی، جبکہ ایک مرحلے پر اس کا عملہ 208 دن مسلسل سمندر میں موجود رہا۔
جہاز کو اس دوران صرف محدود مواقع پر بندرگاہ پر رکنے کا موقع ملا۔ طویل تعیناتی کے باعث فوجی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان بھی مسلسل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
امریکی بحریہ کی قیادت نے اعتراف کیا ہے کہ طویل تعیناتیاں فوجیوں اور ان کے خاندانوں پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے نے انتہائی مشکل حالات میں پیشہ ورانہ صلاحیت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔
خوراک، پانی اور بنیادی سہولیات کی شکایات
فوجی خاندانوں نے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر بنیادی سہولیات سے متعلق بھی متعدد شکایات اٹھائیں۔

ان میں خوراک کی کمی، بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت، پانی سے متعلق خدشات، میل سروس میں تاخیر اور جہاز کے بعض حصوں میں بیت الخلاؤں کی خرابی شامل ہیں۔
بحری حکام نے تسلیم کیا کہ جہاز کے ایک حصے میں پلمبنگ کا مسئلہ پیدا ہوا تھا جس کے باعث متعدد بیت الخلاء کچھ عرصے تک استعمال کے قابل نہیں رہے۔ حکام کے مطابق عملے نے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
شاورز میں مبینہ پھپھوندی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔ بحری حکام کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر نظر آنے والی تہہ ممکنہ طور پر Mildew ہوسکتی ہے، تاہم صحت کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا رہا اور متعلقہ ماہرین کے ذریعے صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایران جنگ سے سپلائی اور ڈاک کا نظام متاثر
بحریہ کے حکام کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ نے امریکی بحری افواج کی سپلائی چین کو بھی متاثر کیا ہے۔
خوراک، ذاتی استعمال کی اشیا اور فوجیوں کی ڈاک کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوئیں، جبکہ طویل اور خطرناک سپلائی لائنز کے باعث بعض سامان کی ترسیل میں کئی ہفتے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ گیا۔
حکام کے مطابق سپلائی میں سب سے پہلے خوراک کو ترجیح دی گئی، اس کے بعد ٹوتھ پیسٹ، شیمپو اور دیگر ضروری اشیا فراہم کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ ڈاک کی ترسیل کو بھی مرحلہ وار بحال کیا گیا۔
تازہ پھلوں اور سبزیوں کی فراہمی بھی مشکل بنی ہوئی ہے کیونکہ طویل سپلائی روٹ کے دوران کئی اشیا خراب ہوجاتی ہیں۔
فوجیوں کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ کا دعویٰ
اہلخانہ کی جانب سے ذہنی صحت کے مسائل پر تشویش کے بعد امریکی بحریہ کے حکام نے کہا ہے کہ جہاز پر فوجیوں کو ذہنی اور جذباتی معاونت فراہم کرنے کے لیے مختلف انتظامات موجود ہیں۔
حکام کے مطابق Deployment Resilience Counselors، مذہبی معاونین اور دیگر سپورٹ سسٹمز فوجیوں کی مدد کے لیے موجود ہیں، جبکہ Human Factors Councils کے ذریعے فوجیوں کی فلاح و بہبود اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
تاہم فوجی خاندانوں کا کہنا ہے کہ طویل تعیناتی اور واپسی کی واضح تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی دباؤ بدستور برقرار ہے۔

امریکی بحریہ کے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ
یو ایس ایس ابراہم لنکن کے طویل مشن کے دوران امریکی بحریہ نے USS George Washington کو بھی ایشیا بحرالکاہل سے مشرق وسطیٰ روانہ کردیا ہے۔
توقع ہے کہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ پہنچ کر یو ایس ایس ابراہم لنکن کو ریلیف فراہم کرے گا، جس سے یو ایس ایس ابراہم لنکن کے طویل عرصے سے جاری مشن کو ختم کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
تاہم اس تبدیلی کے نتیجے میں مغربی بحرالکاہل میں فی الحال کوئی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز موجود نہیں رہے گا۔
امریکی بحریہ مستقبل کے مہینوں میں کسی دوسرے کیریئر کو بحرالکاہل میں تعینات کرسکتی ہے، لیکن موجودہ صورتحال نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔
چین کے لیے خطے میں مواقع بڑھنے کا خدشہ
دفاعی ماہرین کے مطابق مغربی بحرالکاہل میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی عارضی غیر موجودگی چین کے لیے اپنی بحری اور فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا ایک موقع ہوسکتی ہے۔
چین پہلے ہی جنوبی بحیرہ چین میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے جبکہ جاپان اور فلپائن کے ساتھ بھی اس کے علاقائی تنازعات موجود ہیں۔
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں صرف فوجی طاقت کی علامت نہیں بلکہ جاپان، فلپائن اور دیگر اتحادی ممالک کے لیے امریکی دفاعی عزم کی ایک اہم علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکا کی مسلسل فوجی مصروفیت سے ایشیا بحرالکاہل کے ممالک میں یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ واشنگٹن کی توجہ خطے سے ہٹ رہی ہے۔
امریکا کا مؤقف: بحرالکاہل سے دستبرداری نہیں
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ فوجی ضروریات کے باوجود امریکا بحرالکاہل سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔
امریکی حکام نے اتحادی ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واشنگٹن خطے میں مشترکہ مشقوں، دفاعی تعاون اور فوجی شراکت داری کو جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ خطرات سے نمٹنے کے بعد امریکی فوجی وسائل کو دوبارہ بحرالکاہل سمیت دیگر اہم خطوں کی جانب منتقل کیا جاسکتا ہے۔
طویل جنگ سے امریکی بحری بیڑے پر اضافی بوجھ

ایران کے خلاف طویل فوجی کارروائی نے امریکی بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہازوں کے شیڈول پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
امریکی بحریہ کے پاس مجموعی طور پر 11 طیارہ بردار بحری جہاز ہیں، لیکن تمام جہاز بیک وقت آپریشنل تعیناتی کے لیے دستیاب نہیں ہوتے۔ کچھ جہاز تربیت، مرمت یا دیکھ بھال کے مراحل میں رہتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسلسل طویل تعیناتیوں کے نتیجے میں جہازوں کو مستقبل میں بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس سے امریکی بحریہ پر مزید آپریشنل دباؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
جدید جنگ میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی افادیت پر بحث
موجودہ صورتحال نے طیارہ بردار بحری جہازوں کے مستقبل کے کردار پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں ڈرونز، کروز میزائلز اور دیگر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت بڑے اور مہنگے طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے نئے خطرات پیدا کررہی ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں چھوٹے جنگی بحری جہاز، آبدوزیں، ڈرونز اور دیگر جدید ہتھیار بڑے طیارہ بردار بحری جہازوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔
یوں ایران کے خلاف جاری جنگ کا اثر صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی بحریہ کے اہلکاروں کی ذہنی صحت، فوجی خاندانوں کی زندگی، بحری بیڑے کی آپریشنل صلاحیت اور بحرالکاہل میں امریکی فوجی موجودگی تک پھیل گیا ہے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن کی ریکارڈ طویل تعیناتی اور یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ روانگی نے واشنگٹن کے لیے بیک وقت کئی محاذوں پر فوجی وسائل اور حکمت عملی میں توازن برقرار رکھنے کا چیلنج مزید نمایاں کردیا ہے۔
WATCH: A sailor's viral video shows filthy bathrooms on what's reported to be the USS Abraham Lincoln.
Stained showers, grimy floors, and clogged toilets.
"Join the Navy, though, right?" he says sarcastically.
pic.twitter.com/ItjvNpDX0o
— Clash Report (@clashreport) August 16, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کی وجہ کیا ہے؟
جواب: ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث یو ایس ایس ابراہم لنکنکی تعیناتی میں توسیع ہوئی اور جہاز نے معمول سے کہیں زیادہ عرصہ سمندر میں گزارا۔
سوال 2: یو ایس ایس ابراہم لنکن کے اہلخانہ نے کیا خدشات ظاہر کیے؟
جواب: اہلخانہ نے فوجیوں کی ذہنی صحت، مسلسل تھکن، خوراک اور بنیادی اشیا کی کمی، پانی، میل سروس اور جہاز کی رہائشی سہولیات سے متعلق خدشات اٹھائے۔
سوال 3: یو ایس ایس ابراہم لنکنکو مشرق وسطیٰ کیوں بھیجا گیا؟
جواب: USS George Washington کو مشرق وسطیٰ بھیجے جانے کا مقصد طویل عرصے سے تعینات یو ایس ایس ابراہم لنکن کو ممکنہ طور پر ریلیف فراہم کرنا ہے۔
سوال 4: ایشیا سے امریکی کیریئر کی روانگی کا چین پر کیا اثر ہوسکتا ہے؟
جواب: ماہرین کے مطابق مغربی بحرالکاہل میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی عارضی عدم موجودگی چین کو خطے میں اپنی بحری اور فوجی سرگرمیاں بڑھانے کا موقع دے سکتی ہے۔
سوال 5: کیا یو ایس ایس ابراہم لنکن کی واپسی کی حتمی تاریخ طے ہے؟
جواب: دستیاب معلومات کے مطابق بحریہ نے فوجی خاندانوں کو حتمی واپسی کی تاریخ نہیں دی، جس پر خاندانوں میں تشویش برقرار ہے۔






