پاکستان میں کرپٹو اور ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا لائسنسنگ نظام متعارف

پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا لائسنسنگ نظام کا اجرا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں کرپٹو اور ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا لائسنسنگ نظام متعارف، واضح قوانین اور لائسنسنگ نظام پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ کو زیادہ منظم بنانے میں مدد دے سکتا ہے

اسلام آباد: پاکستان نے کرپٹو کرنسی اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں سے وابستہ کاروبار کو باقاعدہ قانونی و ریگولیٹری نظام میں لانے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں (VASPs) کے لیے نیا لائسنسنگ نظام متعارف کرا دیا ہے۔

پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) نے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے لائسنسنگ فریم ورک مکمل کرنے کے بعد لائسنسنگ پورٹل بھی کھول دیا ہے۔

ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا لائسنسنگ نظام کے تحت کرپٹو ایکسچینجز، ڈیجیٹل اثاثوں کے کسٹوڈینز اور دیگر ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والے اداروں کو باقاعدہ ریگولیٹری تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔

میزان بینک نے چھٹی بار پاکستان کا بہترین بینک ایوارڈ جیت لیا
میزان بینک نے پاکستان بینکنگ ایوارڈز 2026 میں چھٹی مرتبہ بہترین بینک کا اعزاز حاصل کرلیا۔

کرپٹو کاروبار کے لیے نئے قواعد

ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا لائسنسنگ نظام میں ورچوئل اثاثہ کمپنیوں کے لیے کاروباری طرزِ عمل، مالیاتی اور احتیاطی معیارات، ٹیکنالوجی، اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق تقاضے شامل کیے گئے ہیں۔

ریگولیٹری فریم ورک کے تحت صارفین کے اثاثوں کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ لائسنس یافتہ اداروں کو صارفین کے اثاثوں کو اپنے ذاتی یا کاروباری اثاثوں سے الگ رکھنا ہوگا۔

اسی طرح صارفین کی تحریری اجازت کے بغیر ان کے ورچوئل اثاثوں کو قرض دینے یا بطور ضمانت استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

موجودہ کمپنیوں کے لیے NOC لازمی

ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا لائسنسنگ نظام کے تحت پہلے سے کام کرنے والے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کو 5 ستمبر 2026 تک نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) کے لیے درخواست دینا ہوگی۔

مقررہ مدت میں NOC کے لیے درخواست نہ دینے والے اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند کرنا پڑسکتی ہیں۔

لائسنسنگ کا عمل مکمل اجازت نامہ جاری ہونے سے قبل ریگولیٹری سینڈ باکس اور NOC جیسے مراحل پر مشتمل ہوگا۔

کرپٹو کمپنیوں کو بینکنگ نظام تک رسائی

نئے فریم ورک کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کو پاکستان کے رسمی بینکاری نظام تک رسائی حاصل ہوسکے گی۔

سرکاری افسران قبل ازوقت ریٹائرمنٹ میں اضافہ
سرکاری افسران میں قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کا رجحان بڑھنے لگا، 5 ماہ میں 4 سینئر افسران ریٹائر۔

اس مقصد کے لیے الگ Client Money Accounts رکھنے کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین کے فنڈز کو کاروباری ادارے کے اپنے پیسوں سے الگ رکھا جاسکے گا۔

پاکستان میں کرپٹو مارکیٹ کے لیے اہم پیش رفت

PVARA کے مطابق نیا ریگولیٹری فریم ورک عوامی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا، جبکہ اتھارٹی کے مستقل قانونی ادارہ بننے کے بعد تقریباً چھ ماہ میں اس عمل کو مکمل کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق واضح قوانین اور لائسنسنگ نظام پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ کو زیادہ منظم بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے صارفین کے تحفظ، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے امکانات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

ورچوئل اثاثوں کے لیے نیا لائسنسنگ نظام کے ذریعے پاکستان نے کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کو مکمل طور پر غیر منظم شعبے کے بجائے ایک باقاعدہ مالیاتی و ریگولیٹری ڈھانچے میں شامل کرنے کی سمت اہم قدم اٹھایا ہے۔

تاہم صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ صرف مجاز اور لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کے ساتھ لین دین کریں اور کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل متعلقہ ریگولیٹری تقاضوں اور خطرات کو سمجھیں۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: پاکستان نے ورچوئل اثاثہ لائسنسنگ نظام کیوں متعارف کرایا؟
کرپٹو اور دیگر ڈیجیٹل اثاثہ کاروبار کو باقاعدہ قانونی و ریگولیٹری فریم ورک میں لانے اور صارفین کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے یہ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

سوال 2: PVARA کیا ہے؟
PVARA یعنی پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کی نگرانی اور لائسنسنگ سے متعلق ادارہ ہے۔

سوال 3: کن کاروباروں کو لائسنس درکار ہوگا؟
کرپٹو ایکسچینجز، کسٹوڈینز اور دیگر ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والے کاروبار نئے ریگولیٹری نظام کے تحت لائسنسنگ کے دائرے میں آئیں گے۔

سوال 4: موجودہ ورچوئل اثاثہ کاروباروں کے لیے کیا شرط ہے؟
موجودہ سروس فراہم کرنے والوں کو مقررہ مدت کے اندر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) کے لیے درخواست دینا ہوگی، بصورت دیگر انہیں اپنی سرگرمیاں روکنا پڑسکتی ہیں۔