جدہ میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، اسرائیلی پالیسیوں کی شدید مذمت
او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقد ہوا، جس میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اور مختلف وفود نے شرکت کی۔ اجلاس میں فلسطین کی صورتحال سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں فلسطینی علاقوں پر قبضے، غیر قانونی بستیوں کی توسیع، تشدد، الحاق اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی سے متعلق اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کے کردار پر زور دیا۔ اس موقع پر ایک جامع قرارداد بھی منظور کی گئی۔
قرارداد میں عالمی برادری اور او آئی سی کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ ایجنڈے اور فلسطینی عوام پر مبینہ جبر کو روکنے کے لیے قانونی، سیاسی اور سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، ان کی سرزمین اور مستقبل سے متعلق معاملات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔
پاکستان کی جانب سے بھی اجلاس میں اہم مؤقف پیش کیا گیا۔ پاکستانی مستقل مندوب سید فواد شیر نے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے۔
سید فواد شیر نے اسلامی ممالک کے مشترکہ پلیٹ فارم پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جدہ اجلاس میں او آئی سی کی قیادت کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی۔ اجلاس کے دوران موریطانیہ کے سابق وزیر خارجہ اسماعیل ولد الشیخ احمد کو او آئی سی کا نیا سیکرٹری جنرل منتخب کرلیا گیا۔
نئے سیکرٹری جنرل کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلامی تعاون تنظیم کو فلسطین، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دیگر علاقائی مسائل پر مشترکہ اسلامی مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے اہم سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔
او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں منظور ہونے والی جامع قرارداد کو فلسطینی مسئلے پر اسلامی ممالک کے مشترکہ مؤقف کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قرارداد میں قانونی، سیاسی اور سفارتی ذرائع سے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
اجلاس میں شریک اسلامی ممالک کے وفود نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جدہ میں ہونے والا اجلاس او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا گیا، جبکہ فلسطین اور کشمیر سمیت مسلم دنیا کو درپیش اہم مسائل پر اسلامی ممالک کے مؤقف کو سامنے لایا گیا۔
READ MORE FAQS
سوال: او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کہاں منعقد ہوا؟
جواب: اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقد ہوا۔
سوال: اجلاس میں کس معاملے کی شدید مذمت کی گئی؟
جواب: اجلاس میں فلسطینی زمینوں پر قبضے، بستیوں کی توسیع، تشدد، الحاق اور جبری نقل مکانی سے متعلق اسرائیلی پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی۔
سوال: او آئی سی اجلاس میں کیا منظور کیا گیا؟
جواب: اجلاس میں ایک جامع قرارداد منظور کی گئی جس میں فلسطینی عوام کے خلاف اقدامات روکنے کے لیے قانونی، سیاسی اور سفارتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
سوال: پاکستان کی جانب سے اجلاس میں کون شریک ہوا؟
جواب: پاکستانی مستقل مندوب سید فواد شیر نے اجلاس سے خطاب کیا۔








