لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران شیخ مستعفی، فوری طور پر عہدہ چھوڑ دیا، آئین، قانون کی حکمرانی اور انصاف سے وابستگی برقرار رکھنے کا اعلان
لاہور/اسلام آباد: لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ قانونی تحقیق، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی امور میں زیادہ وسیع کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے منصبِ عدالت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے 3 ستمبر 2026 کو اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت کے نام ارسال کیا، جس میں انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ان کے استعفے کی ایک نقل لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھی ارسال کی گئی۔
قانونی تحقیق اور پالیسی امور میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ

اپنے استعفے میں جسٹس راحیل کامران شیخ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز اور باعثِ فخر رہا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے حلف اور ضمیر کے مطابق نظامِ انصاف کی خدمت کرنے کی کوشش کی۔
جسٹس راحیل کامران شیخ کے مطابق، گہری اور طویل غوروفکر کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک قانون دان کی حیثیت سے اپنی مزید پیشہ ورانہ ترقی اور قانون کی حکمرانی و انصاف تک رسائی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے انہیں قانونی تحقیق، پالیسی سازی سے متعلق مطالعات اور تقابلی عدالتی طریقہ کار میں وسیع سطح پر کام کرنا چاہیے۔
سینئر ججز اور عدالتی عملے کا شکریہ
جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے استعفے میں لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ساتھی ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دورانِ ملازمت ان کی رہنمائی اور دانش مندی ان کے لیے انتہائی اہم رہی۔
انہوں نے عدالتی عملے کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کے تعاون اور معاونت پر وہ دل سے شکر گزار ہیں۔ جسٹس راحیل کامران شیخ نے کہا کہ وہ عدالتی منصب سے علیحدہ ہو رہے ہیں، تاہم آئین اور قانون کی حکمرانی سے ان کی وابستگی ہمیشہ برقرار رہے گی۔
2021 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے

جسٹس راحیل کامران شیخ مئی 2021 سے لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ عدالتی ذمہ داریوں سے قبل وہ وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے اور پاکستان بار کونسل کے منتخب رکن بھی رہے۔ ان کی قانونی سرگرمیوں میں عوامی قانون، تجارتی معاملات، ٹیکس، انسانی حقوق اور دیگر قانونی شعبے شامل رہے۔
وہ معروف قانون دان اکرم شیخ کے صاحبزادے ہیں۔ جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے عدالتی اور قانونی کیریئر کے دوران قانونی معاملات، انصاف تک رسائی اور قانون کی حکمرانی سے متعلق امور میں فعال کردار ادا کیا۔
استعفے کے بعد نئی قانونی سرگرمیوں پر توجہ
جسٹس راحیل کامران شیخ کے استعفے کے بعد قانونی حلقوں میں اس پیش رفت پر توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ عدالتی منصب سے علیحدگی کے باوجود وہ قانونی علم، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی طریقہ کار کے ذریعے قانون اور انصاف کے شعبے میں اپنا کردار جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
ان کے استعفے کو ملک کے عدالتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ ان کی آئین، قانون کی حکمرانی اور انصاف سے وابستگی برقرار رہے گی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے
اپنے استعفے میں انہوں نےواضح کیا کہ وہ اب قانونی تحقیق (Legal Scholarship)، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی امور کے شعبوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں#Pakistan #LHC pic.twitter.com/lFmWxbaPBK
— Zahid Khawaja 🪩 (@khawajaNNInews) September 3, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفیٰ کب دیا؟
جواب: جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے 3 ستمبر 2026 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔
سوال 2: جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفیٰ کیوں دیا؟
جواب: انہوں نے قانونی تحقیق، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی طریقہ کار میں وسیع کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
سوال 3: جسٹس راحیل کامران شیخ کب لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے؟
جواب: جسٹس محمد راحیل کامران شیخ مئی 2021 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے۔
سوال 4: جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفے میں کیا کہا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ عدالتی منصب سے علیحدگی کے باوجود آئین، قانون کی حکمرانی اور انصاف سے ان کی وابستگی برقرار رہے گی۔






